ندی اور بوڑھا (سنہالی ادب سے منتخب افسانہ)
پچھلے دس یا اس سے بھی کچھ زیادہ سالوں سے، ہر دن بوڑھا زیادہ تر وقت ندی کے کنارے بیٹھا رہتا۔ اُس کی عمر بیاسی برس تھی اور اب اُس نے کام کاج چھوڑ دیا تھا۔ ندی، بالکل اُس کے گھر کے سامنے تھی اور کچھ صدیاں پُرانی تھی۔ اُس کی ساری زندگی اسی ندی…
پھول، مگر مچھ اور زنجیریں (تھائی ادب سے منتخب افسانہ)
اس کی عمر ستائیس اٹھائیس سال کے لگ بھگ ہوگی۔ وہ ایک وجیہہ نوجوان تھا۔ اس کے چہرے پر بظاہر بیماری کے کوئی آثار نہیں تھے۔ نہ اس کا رنگ زرد تھا نہ چہرے پر وحشت کا کوئی نشان بلکہ اس کی آنکھوں سے غیر معمولی ذہانت جھلکیاں مار رہی تھی۔ ہمیں دیکھ کر وہ…
کاکڑاں کا تَیلی
’’اڑھائی روپے!‘‘ مولو نے طنز سے سر ہلا کر اپنی بیوی کی طرف دیکھا، ان نگاہوں سے جو گویا کہہ رہی تھیں کہ کم بخت تانگے والے کی عقل شاید گھاس چرنے چلی گئی ہے۔ ابھی مشکل سے آٹھ ساڑھے آٹھ کا وقت ہوگا، لیکن دن پہاڑ سا نکل آیا تھا۔ سورج عین سر پر…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط27)
عالم گڑھ کا بیلی سسپنشن برج ایک سو بتیس (132) میٹر لمبا ہے۔ اسے ایک مقامی ٹھیکے دار ”سید عالم“ نے تعمیر کیا اور انہی کا نام اس کے نام کی نسبت بن گیا ہے۔ میں پانچ سو (500) میل کا سفر طے کر کے یہاں پہنچا ہوں۔ دریائے گلگت پر اب جدید پل بنا…
مسیسپی: ماہر موسمیات کیسے اپنے انداز کے باعث لوگوں کی جان بچانے کی وجہ بنا۔۔
اگرچہ لی این ہبرڈ اور ان کے ہمسائے، مسیسپی کے چھوٹے سے قصبے اموری میں ’طوفانی موسم‘ کے عادی ہیں، لیکن وہ سب مقامی ٹی وی پر ماہر موسمیات ’میٹ لوبھان‘ کا پروگرام دیکھتے ہیں تاکہ انہیں پتہ رہے کہ کیا ہونے والا ہے عام طور پر ان کے شہر میں لوگوں کا رویہ غیر…
دریاؤں کا عالمی دن: ستر سالہ صدیق بلوچ ملیر ندی کو بچانے کے مشن پر۔۔
ایک ڈھابے پر ٹانگیں پسارے بیٹھا کاغذات سے بھری فائلوں کو چھان رہا تھا، جب ایک بیرا اس کے لیے چائے لے کر آتا ہے، محمد صدیق بلوچ کپ اٹھاتا ہے، گھونٹ لیتا ہے، اوپر دیکھتا ہے اور اچانک یاد آتا ہے کہ اس ہوٹل سے آدھے کلومیٹر کے فاصلے پر ایک فارم ہاؤس ہے،…
14 مارچ دریاؤں کا عالمی دن اور ملیر دریا
کسی پہاڑ سے بہہ کر یا جھیل سے نکل کر بہت سا پانی جب خشکی پر دور تک بہتا چلا جاتا ہے تو اسے دریا کہتے ہیں۔ دریا بذات خود مستقل بھی ہوتے ہیں اور معاون بھی۔ ایک دریا دوسرے دریا میں جا گرے تو معاون کہلاتا ہے ۔ دنیا بھر میں دریاﺅں کی آگاہی…
شیر دریا، پانی کے دیوتا اور زندہ پیر کی کتھا (دوسرا اور آخری حصہ)
رچرڈ ایف برٹن تو بکھر کا قلعہ دیکھنے کے لیے چلے گئے ہیں۔ ہینری کزنس اپنی تحقیق میں مشغول ہیں۔ اس سے پہلے یہ مناسب ہوگا کہ ہم ابن بطوطہ سے اس جزیرے کے متعلق کچھ باتیں سن لیں۔ وہ محمد بن تغلق کے زمانے (1333ء) یعنی آج سے تقریباً 700 برس پہلے یہاں آئے…