سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط31)
بابو سر ٹاپ کے برفیلے میدان سے جنم لینے والی شفاف برفیلے پانی کی ’ٹھک ندی‘ کے پل سے گزر رہے ہیں۔ کل کے اس گمنام مقام کو آج نام بھی دیا گیا ہے تو ’زیرا پوائنٹ‘۔گمنام کو زیرا پوائنٹ کہنے سے فرق نہیں پڑتا مگر یہ اس شاہراہ کا نیا اہم اسپاٹ بن گیا…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط29)
شاہراہِ ریشم بائیں گھومتی قراقرم کے پہاڑوں پر بل کھاتی ”رائے کو ٹ برج“ پہنچتی ہے جبکہ میں سیدھا آگے کو رواں ہوں۔۔ سندھو کے پار ہمالیہ کی عمودی چٹانیں اس پر سایہ کئے ہیں۔ کہیں کہیں سبزہ بھی ہے۔ لینڈسلائیڈنگ آج بھی اس شاہراہ کا بڑا خطرہ ہے۔ رائے کوٹ تک کا…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط25)
اسکردو، جگلوٹ، داسو کی تھکا دینے والی مسافت طے کرنے میں تقریباً آٹھ (8) گھنٹے لگیں گے (اب جبکہ نئی سڑک زیر تعمیر ہے، یقیناً یہ فاصلہ کم وقت میں طے ہوگا) جبکہ گلگت اسلام آباد کی مسافت سولہ گھنٹے کی ہے البتہ ہوائی جہاز راولپنڈی سے یہی مسافت پچاس (50) منٹ…
فرے منریک: ایک پرتگیز پادری کی سفرِ سندھ کی کتھا (آخری حصہ)
بکھر، سکھر اور روہڑی یقیناً کبھی اتنے خوبصورت شہر نہیں ہوتے اگر دریائے سندھ کو ان سے محبت نہ ہوتی۔ یہ دریائے سندھ کا بہاؤ ہی تھا جو اپنے پرانے مشرقی بہاؤ کو چھوڑ کر ان چھوٹی چھوٹی بستیوں کو اپنی بانہوں میں لینے کے لیے کئی سو برس پہلے یہاں تک آ پہنچا بکھر…
سندھ کے حکمران غلام شاہ کلہوڑو، جنہیں مرنے کے بعد ’مچھلی والا بابا‘ بنا دیا گیا!
سندھ کے کلہوڑا دور کے مشہور حکمران غلام شاہ کلہوڑو کی مزار پر ہر جمعرات کی دوپہر سے عقیدت مندوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے اور مزار کا احاطہ مچھلی کی خوشبو سے مہک اٹھتا ہے مزار کے احاطے میں مچھلی سالن اور فرائی دونوں صورتوں میں بنائی جاتی ہے، یہاں…