تپتی دھوپ (ترک ادب سے منتخب افسانہ)
بچہ: ”اماں۔۔ اماں! کل صبح سے پہلے مجھے جگا دینا۔“ ”تم پھر نہیں جاگو گے۔“ ”نا جاگوں تو میرے جسم میں سوئی چبھونا، میرے بال کھینچنا، میری پٹائی کرنا۔“ پیلے چہرے والی پتلی دبلی عورت کی سیاہ آنکھوں میں خوشی سے بھرپور چمک دوڑ گئی۔ ”اور اگر تم پھر بھی نہیں جاگے…
ایک ٹیلی وژن کی موت (ہندی ادب سے منتخب افسانہ)
پرماتما کی بے پناہ مہربانی سے آج میں ساڑھے تین منزلہ کوٹھی کا مالک ہوں۔ کبھی ایک معمولی ملازم کی حیثیت سے دبئی گیا تھا، صنعتکار اور کروڑپتی بن کر واپس آیا۔ میری کئی فیکٹریاں ہیں، گھر میں خوبصورت اور نیک بیوی ہے، لائق بچے ہیں، نوکر چاکر ہیں، دروازے پر دو…
ستاروں اور جگنوؤں کی بارات
سورج شاید کمبل اوڑھے آکاش کے پلنگ پہ کہیں دبک کر سویا ہوتا تھا۔ دھوپ کی ایک بھی کرن دکھائی نہیں دیتی تھی۔ جاڑے کے موسم میں، ہماری بستی میں یخ بستہ اور دھند آلود صبح پھوٹتی تھی۔ نیم کی ٹنڈ منڈ شاخوں سے شبنم کی بوندیں برس رہی ہوتیں۔ ٹپ ٹپ ٹپ۔ ہم آنکھیں…
ڈاچی (افسانہ)
پی سکندر کے مسلمان جاٹ باقر کو اپنے مال کی طرف حریصانہ نگاہوں سے تاکتے دیکھ کر او کانہہ کے گھنے درخت سے پیٹھ لگائے، نیم غنودگی کی سی حالت میں بیٹھا چودھری نندو اپنی اونچی گھر گھراتی آواز میں للکار اٹھا۔۔۔ ’’رے رے اِٹھے کے کرے ہے؟‘‘ (ارے یہاں کیا کر رہا…