انقلاب پسند (اُردو ادب سے منتخب افسانہ)
میری اور سلیم کی دوستی کو پانچ سال کا عرصہ گزر چکا ہے۔ اس زمانے میں ہم نے ایک ہی اسکول سے دسویں جماعت کا امتحان پاس کیا، ایک ہی کالج میں داخل ہوئے اور ایک ہی ساتھ ایف اے کے امتحان میں شامل ہو کر فیل ہوئے۔ پھر پرانا کالج چھوڑ کر ایک نئے…
1919 کی ایک بات
یہ 1919ء کی بات ہے بھائی جان، جب رولٹ ایکٹ کے خلاف سارے پنجاب میں ایجیٹیشن ہو رہی تھی۔ میں امرتسر کی بات کر رہا ہوں۔۔ سر مائیکل اوڈوائر نے ڈیفنس آف انڈیا رولز کے تحت گاندھی جی کا داخلہ پنجاب میں بند کر دیا تھا۔ وہ ادھر آرہے تھے کہ پلول کے مقام پر…
دشتِ تمنا (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
خزانے کا خواب متوسط طبقے کے اکثر لوگوں کی طرح اسے بھی وراثت میں ملا تھا، پرانے گھر میں اس کے باپ نے بھی کئی جگہیں لکھ دی تھیں لیکن خزانہ تو نہ ملا گھر کی خستگی میں اضافہ ہو گیا۔ پھر اس نے یہ خواب دیکھنا چھوڑ دیا جو اسے اپنی ماں سے ورثے…
فیصلہ (ہندی ادب سے منتخب افسانہ)
ان دنوں ہیرالال اور میں اکثر شام کو گھومنے جایا کرتے تھے۔ شہر کی گلیاں اُلانگھ کر ہم شہر کے باہر کھیتوں کی طرف نکل جاتے تھے۔ ہیرالال کو باتیں کرنے کا شوق تھا اور مجھے اس کی باتیں سننے کا۔ وہ باتیں کرتا تو لگتا جیسے زندگی بول رہی ہے۔ اس کے واقعات اور…
جیل میں ایک چھوٹی سی غلطی
میں 1981 کے موسمِ خزاں اور 1982 کے اوائل میں پابندِ سلاسل کردیا گیا تھا۔ اس جیل میں مقید تھا، جو شاہِ ایران کے دور میں عقوبت کدے کے طور پر استعمال ہوتا تھا۔ خمینی کی اسلامی حکومت نے اس کے در دوبارہ وا کر دیے تھے۔ جہاں میں قید تھا، وہاں بہت سی عورتوں…
کروڑ پتی بھکاری (آئرش ادب سے منتخب افسانہ)
دولت کے بغیر، صرف خوبصورت ہونا بےکار ہے۔ رومانس امیروں کی عیاشی ہے، بے روزگار کا پیشہ نہیں۔ غریب کو پریکٹیکل اور سادہ ہونا چاہیے۔ دلکش نظر آنے کے بجائے مستقل آمدنی ضروری ہے۔ یہ جدید دنیا کے بڑے سچ ہیں، جو ہیو ای ارسکائین کو کبھی نہیں سمجھ آئے۔ بے چارہ…
عالمِ استغراق (مراکشی ادب سے منتخب افسانہ)
ساحلِ سمندر لوگوں سے تقریباً خالی ہو چکا تھا، ماسوا ان چند کارندوں کے، جو وہاں پہ صفائی اور دیگر حفاظتی معمولات کی دیکھ ریکھ پہ مامور تھے۔ سورج وسیع و عریض سطحِ سمندر پر اپنی سنہری چمک بکھیر بکھیر کر اب غروب ہونے کے قریب تھا۔ میں وہاں بکھری ہوئی سنگلاخ…
گھر واپسی (کہانی)
پھٹِک چکروتی گاؤں کے لڑکوں کی ٹولی کا سرغنہ تھا۔ اسے ہر لمحہ کوئی نہ کوئی شرارت سوجھتی ہی رہتی تھی۔ آج بھی اس کے دماغ میں ایک نئی شرارت جاگی۔ دریا کے کنارے کشتی کے مستول میں استعمال ہونے والا درخت کا ایک بھاری تنا پڑا تھا۔ اس نے فیصلہ کیا کہ وہ سب…