دستک (روسی ادب سے منتخب افسانہ)
آسمان پر سویرے ہی سے گہرے بادل چھائے ہوئے تھے، ہوائیں تھمی ہوئی تھیں اور یہ قدرے سرد اور بے رونق دن انہی کہریلے دنوں میں سے ایک تھا جب بہت دیر سے بہت نیچائی پر معلق بادلوں کو دیکھ کے خیال ہوتا ہے کہ بارش بس اب ہونے ہی کو ہے، پر ہوتی نہیں۔…
گُم ہونے کی جگہ ( ہندی ادب سے منتخب افسانہ)
اگر کسی شہر میں گُم ہوجانے لائق جگہیں نہیں ہیں تو وہ ایک ادھورا شہر ہے۔۔ بلکہ وہ کوئی وسیع ریگستان ہے، جہاں ریت ہی ریت اڑتی ہے، آنکھوں میں بھرجاتی ہے، پھر نیند میں اور خوابوں میں گھس جاتی ہے۔۔ جہاں دھوپ ہی دھوپ ہے، چھاؤں نہیں ہے۔ سراب ہے، پانی نہیں…
ماں پڑھتی ہے (ہندی ادب سے منتخب افسانہ)
کئی مہنوں بعد گاؤں آیا ہوں۔ماں یہاں اکیلی رہتی ہے۔ آج گھر کا دروازہ کھلا ہے، ورنہ تو ماں صبح سویرے دروازہ بند کر کے باہر کا کام نمٹانے چلی جاتی ہیں۔ صبح کا سارا وقت حویلی میں گزرتا ہے۔جانوروں کو چارا ڈالتے، گائے کا دودھ دھوہتے، گوبر پھینکتے۔ اِس سمے بھی…
اداکار کی موت (منتخب افسانہ)
شیانوف ایک لحیم شحیم اداکار تھا۔ اداکاری کے فن میں نہ سہی اپنی جناتی ضخامت کی وجہ سے تھیٹر میں خاصا کامیاب بھی تھا اور سادہ لوح طبیعت کے باعث مقبول بھی۔ دوسرے اداکار اس سے چھیڑ چھاڑ کرتے رہتے۔ کوئی اس کو گینڈا کہتا۔ کوئی سرکاری سانڈ۔۔ لیکن سب اسے پیار…
ہیں خواب میں ہنوز (کیوبن ادب سے منتخب افسانہ)
1957 کے آس پاس ایک بوڑھا امریکی جوڑا ہوانا شہر میں ہمارا پڑوسی تھا۔ وہ مبالغے کی حد تک کم آمیز تھے۔ ہم دونوں کے گھروں کا ٹیرس مشترکہ تھا، بس درمیان میں کنکریٹ کی ایک چھوٹی سی دیوار تھی۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ہمارا تو راہ چلتے، لفٹ میں یا گھر میں…
اداس نسلیں (کالم کہانی)
بارش تو رک گئی تھی مگر دھرتی پر بہتے پانی کا شور ابھی باقی تھا۔ اس نے کھڑکی کو کھول کر دیکھا۔ دھلے ہوئے درخت پر ایک خوبصورت پرندہ اپنے پروں کو چونچ سے خشک کر رہا تھا۔ اس کے قریب ایک گلہری اداس بیٹھی تھی۔ پیپل کے اس درخت کے قریب پام کا بوڑھا…