یہ مرد (افسانہ)
کسی قسم کے احساس کے بغیر گوبند نے چپ چاپ لکشمی کی چارپائی کے اردگرد پردے لگا دئیے، پردے۔۔۔ جو لکڑی کے فریم میں سفید کپڑا لگا کر بنائے گئے تھے اور حسبِ خواہش کھولے یا بند کیے جا سکتے تھے۔ تب مس سلطانہ اور بکیٹی تیز تیز چلتی ہوئی آئیں اور ان کے بعد…
اداسی کا مسکراتا چہرہ: لوگوں کو ہنساتے کامیڈینز کے اندر کی درد بھری دنیا
امر جلیل کے مشہور سندھی ڈراما ’مٹیءَ جا مانڑھو‘ (مٹی کے آدمی) کا ایک مکالمہ ہے، ”میں وہ مسخرہ ہوں، جو دنیا کو ہنسا کر، پردے کے پیچھے جا کر رو پڑتا ہے۔۔“ یہ مکالمہ کامیڈینز کے مسکراتے چہرے کے پیچھے چھپے دکھ کی خوبصورت عکاسی کرتا ہے۔ کامیڈینز کی زندگی ایک…
اداسی کا پیٹ کبھی نہیں بھرتا
آج کل میں اداس ہوں، بہت دن ہو گئے یار زور زبردستی گزارتے ہوئے، دل کی بات کرنی چاہیے۔ انسان جب لکھتا ہے تو کوشش ہوتی ہے کہ سامنے والے کو اس سے کچھ فائدہ ہو، یہ کوشش لیکن مروا بھی دیتی ہے کبھی کبھی، یہی ہو رہا ہے میرے ساتھ! ہر بار کام کی…
ایک بلوچ ماں کا دکھ
ویک اینڈ پر میں لیہ میں اپنے گاؤں میں تھا۔ اس دفعہ اسلام آباد ڈیرہ اسماعیل خان موٹروے سے بھکر لیہ جانے کا فیصلہ کیا۔ بلاشبہ موٹروے نے ان علاقوں کی قسمت بدل دی ہے لیکن جونہی آپ ڈیرہ کے قریب موٹر وے سے اترتے ہیں تو آپ کو پتا چلتا ہے کہ ان علاقوں…