”ریاست چھینی ہوئی زندگیاں لوٹا دے۔“ سمی بلوچ کا انصاف کے حصول تک مزاحمت جاری رکھنے کا عزم
سمی دین بلوچ کے بچپن اور نوجوانی کے خوبصورت سال جبری طور پر لاپتہ کیے گئے والد کی تلاش میں کہیں کھو گئے۔ وہ اس وقت صرف دس برس کی تھیں، جب انہیں 2009ء میں پہلی مرتبہ اپنے والد ڈاکٹر دین محمد بلوچ کی بازیابی کے لیے ایک احتجاج کا حصہ بننے پر مجبور ہونا…
شہباز ’اسپیڈ‘ اور سمی دین بلوچ
سمی نے کبھی کسی کو بددعا نہیں دی۔ اگر دل میں دی ہو تو پتا نہیں لیکن 14 سال پہلے سمی کے باپ ڈاکٹر دین محمد کو اٹھایا گیا تو وہ سکتے میں تھی، ماں کو کیا بتائے، چھوٹی بہن کو کیسے سنبھالے اس نے بہت کم عمری میں وہ سارے طریقے سیکھ لیے جو…