ایک سمجھدار بلوچ
پیارے ساجد، مجھے آپ کے زیرِ تکمیل ناول کا پہلا حصہ ملا ہے اور جیسا کہ میں نے برسوں پہلے وعدہ کیا تھا، میں آپ کو اپنی رائے دے رہا ہوں۔ اکثر جدوجہد کرنے والے ناول نگاروں کی طرح، آپ اس کام میں دیر کر چکے ہیں۔ مجھے یہ آپ کی موت کے چار سال…
”ریاست چھینی ہوئی زندگیاں لوٹا دے۔“ سمی بلوچ کا انصاف کے حصول تک مزاحمت جاری رکھنے کا عزم
سمی دین بلوچ کے بچپن اور نوجوانی کے خوبصورت سال جبری طور پر لاپتہ کیے گئے والد کی تلاش میں کہیں کھو گئے۔ وہ اس وقت صرف دس برس کی تھیں، جب انہیں 2009ء میں پہلی مرتبہ اپنے والد ڈاکٹر دین محمد بلوچ کی بازیابی کے لیے ایک احتجاج کا حصہ بننے پر مجبور ہونا…
مارچ – انصاف کے لیے، ہمدردی کے لیے نہیں!
21 دسمبر 2023 کی صبح، تقریباً 300 مردوں، عورتوں اور بچوں کا ایک قافلہ دارالحکومت کے قریب پہنچا۔ تمام شرکاء کا تعلق بلوچستان سے تھا۔ جسٹس اطہر من اللہ کے الفاظ میں – جبری گمشدگی کے ”سب سے گھناؤنے جرم“ میں ہر ایک نے اپنے پیارے کو کھو دیا تھا۔ جیسے ہی…
وزیراعظم ہمارا مسئلہ حل نہیں کر سکتے، تحریک سے اپنا کیس دنیا کو سنانا چاہتے ہیں: بلوچ مظاہرین
بلوچوں کے حقوق کے لیے متحرک تنظیم بلوچ یکجہتی کمیٹی کے لانگ مارچ کی قیادت کرنے والی ماہ رنگ بلوچ نے ہفتے کو کہا ہے کہ ’ہمارا مطالبہ ہے کہ اقوام متحدہ کی ورکنگ کمیٹی غیر جانبدارانہ طور پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لے۔‘ بلوچ رہنما ماہ رنگ بلوچ نے…
ماہ رنگ بلوچ کی کہانی، جو جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت بلوچ نوجوانوں کے قتل کے خلاف مزاحمت کا استعارہ بن گئیں
تربت سے اسلام آباد تک حالیہ لانگ مارچ کی قیادت کرنے والی ماہ رنگ بلوچ سنہ 2020 میں اس وقت سب کی توجہ کا مرکز بنی تھیں، جب صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں طلبا کے آن لائن کلاسز کے خلاف ایک احتجاج کے دوران بولان میڈیکل کالج کے طلبا کو گرفتار کیا گیا…