عوامی ہیرو دھرمیندر: ایک تجزیہ (حصہ ہفتم)
دھرمیندر اور دوہری نگاہ کی معیشت (Dual gaze economy) لورا مالوی کے فیمن اسٹ نظریے کا جب ہندی سینما پر اطلاق کیا جائے تو ہمارے سامنے دو نظریاتی سوالات کھڑے ہوجاتے ہیں ـ ایک؛ مارکسی سوال جو ثابت کرتا ہے امریکی سینما کے برعکس ہندی سینما میں بیانیے کی ملکیت…
عوامی ہیرو دھرمیندر: ایک تجزیہ (حصہ ششم)
برٹش فلم اسکالر لورا مالوی (Laura Mulvey) کے طویل مضمون Visual pleasure and narrative cinema کو سینما کے فیمن اسٹ مطالعے میں سنگِ میل کا درجہ حاصل ہے ـ ان کے مطابق کمرشل سینما ”مردانہ نگاہ“ (male gaze) پر مبنی ہے ، کیمرہ، ہیرو اور فلمی بیانیہ مل کر عورت…
عوامی ہیرو دھرمیندر: ایک تجزیہ (حصہ دوم)
فلمی کیریئر کا مختصر خاکہ دھرمیندر کے مطابق وہ 1935 میں غیرمنقسم پنجاب کے ضلع لدھیانہ کے ایک گاؤں میں پیدا ہوئے۔ فلموں میں آنے کے حوالے سے وہ بتاتے ہیں دلیپ کمار کی فلم ”شہید“ (1948) دیکھنے کے بعد انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ بمبئی (آج ممبئی) جاکر دلیپ کمار…
شعلے کی بسنتی کو تو سب جانتے ہیں، کیا کوئی ریشما پٹھان کو بھی جانتا ہے؟ بولی وڈ کی پہلی اسٹنٹ وومین کی کہانی
بالی ووڈ فلمیں ایکشن کے بغیر ادھوری ہیں۔ تاہم، یہ ایک غیر معروف حقیقت ہے کہ اداکاروں کے خوبصورت، چمکتے چہروں کے پیچھے جو انتہائی جان لیوا ایکشن سیکوینسز کو اتنی آسانی کے ساتھ انجام دیتے ہیں، اس کو ممکن بنانے کے لیے اسٹنٹ ڈبلز کی پوری فوج موجود ہوتی ہے۔…