بے نام (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
یہ شہر کی مصروف ترین سڑک تھی۔ آدھا کلو میٹر تک سیدھی چلی جاتی تھی۔ اس کے اختتام پر چوراہا تھا، جس پر سگنل لگا ہوا تھا۔ سڑک کے ایک طرف مصروف بازار تھا اور دوسری طرف ایک نجی اسپتال۔ اسپتال سے متصل ایک ویران سا میدان تھا۔ اسپتال کی دیوار کے ساتھ کسی ٹھیلے…
آخری غریب (برازیلی ادب سے منتخب افسانہ)
منظر نامہ: 1990 دنیا میں امن، صحت اور خوش حالی کی کوششیں رنگ لے آئیں۔ دنیا میں امن ہو گیا۔ ہر شہری اپنی کار کا مالک ہے۔ دنیا سے حشرات معدوم ہو چکے تھے، بڑھتی آبادی پر قابو پا لیا گیا تھا، بیماریاں ختم ہو چکی تھیں۔ بیکٹیریا اور وائرس پر قابو پا لیا گیا…
بے نیل مرام (برازیلی ادب سے منتخب افسانہ)
آؤ ربڑ اکٹھا کرنے چلیں۔۔ یہ جملہ امازون کے کنارے سال کے چند مخصوص مہینوں میں سننے کو ملتا ہے۔ مرد کھیتی چھوڑ دیتے ہیں، عورتیں گھر کے کام کاج بھول جاتی ہیں اور لڑکیاں پھول چننا موقوف کر دیتی ہیں۔ یہ جملہ ہر ایک کی زبان پر ہوتا ہے۔ یہ جملہ ایک تیوہار، ایک…
من بھید (برازیلی ادب سے منتخب افسانہ)
گارشیا، ایک طرف خاموش کھڑا اپنے ناخنوں کو غور سے دیکھ رہا تھا۔ کارلوس آرام کرسی پر بیٹھا چھت کی طرف دیکھ رہا تھا، ماریا لوئیسا کھڑکی میں بیٹھی کچھ بُن رہی تھی۔ کمرے میں ایک مہیب سناٹا طاری تھا۔کتنی دیر سے اُن تینوں نے کوئی بات نہ کی تھی۔ اُس پورے دن ان…
اک آسماں تمہارا، اک آسمان میرا (سندھی ادب سے منتخب تجریدی افسانہ)
پمی! تم میری سوچوں میں بنائی گئی وہ پہلی تصویر ہو، جسے میں ابھی تک مکمل نہیں کر سکا۔ کیا انسان اپنی پہلی محبت کی تصویر مکمل کر سکتا ہے؟ میں نہیں جانتا۔۔۔ میں صرف اتنا جانتا ہوں کہ میں اب بھی تمہاری تصویر مکمل کرنے میں مشغول ہوں۔ میں آج بھی تمہاری یہ…
حصارِ تنہائی (موزمبیق کے ادب سے منتخب افسانہ)
ڈونا برتا گارڈن میں ایک بنچ ہے، یا پھر یوں کہنا چاہیے کہ ایک ہی بنچ باقی رہ گیا ہے۔ بقیہ تمام کو وہاں سے اکھاڑ لیا گیا ہے۔ ان کے تختے جلانے کے لیے استعمال کیے جا چکے ہیں۔ اس آخری بنچ پر ایک بوڑھا رہتا ہے۔ ہر رات وہ بوڑھا اور بنچ اس…
ٹوٹی چھت کا مکان (افسانہ)
وہ گھر میں اکیلا اور بیزار بیٹھا تھا۔ کبھی کبھی تنہا رہنا کتنا اذیت ناک ہوتا ہے۔ اکیلے بیٹھے بلاوجہ گھر کی ایک ایک چیز کو گھورتے رہنا۔۔ سوچنے کے لیے کوئی خیال یا موضوع بھی تو نہیں ہے کہ اسی کے بارے میں غور کیا جائے۔ عجیب و غریب خیالات و موضوعات ذہن میں…
یکجہتی (اطالوی ادب سے منتخب افسانہ)
میں انہیں دیکھنے کے لیے رُک گیا۔ وہ رات کے وقت، سنسان گلی میں ایک دکان کے شٹر کے ساتھ کچھ کر رہے تھے۔ دکان کا شٹر تھوڑا بھاری تھا۔ اسے اٹھانے کے لیے انہوں نے ایک لوہے کا ڈنڈا نیچے لگایا ہوا تھا،لیکن شٹر اُٹھ ہی نہیں رہا تھا۔ میں ادھر ویسے ہی چہل…