بلتھزار کی شاندار دوپہر
پنجرہ تیار ہوگیا تھا۔ بلتھزار نے عادت کے مطابق اسے باہر چھت کے نیچے لٹکا دیا اور جب وہ ظہرانے سے فارغ ہوا تو پورا قصبہ اس بات پر متفق تھا کہ یہ دنیا کا سب سے خوبصورت پنجرہ ہے۔ اسے دیکھنے کے لیے اتنے لوگ آئے کہ گھر کے سامنے ہجوم جمع ہو گیا۔…
کاغذی چڑیا گھر (امریکہ کے چینی ادب سے منتخب شاہکار افسانہ)
آج برسوں بعد مجھے اپنی جو ابتدائی ترین یاد ہے، وہ ہے لگاتار منہ بسورے رکھنا یا بے وجہ ریں ریں کرتے رہنا۔ مجھے یاد پڑتا ھے، ماں اور ابا جتنے بھی اور جیسے بھی جتن کرتے میں جلدی بہلنے پر نہیں آیا کرتا تھا۔ میری کہانی ایسے ایک دن کی یاداشت پر شروع ہوتی…
چلتی ٹرین میں رُکی ہوئی کہانی (منتخب افسانہ)
ٹرین کی کھڑکی بند ہے لیکن بارش کی بوندیں لگاتار اس پر دستک دے رہی ہیں، تیز برستی بارش میں میدانوں میں کھڑے درخت بھی دھندلے دکھائی دے رہے ہیں۔ کھچا کھچ مسافروں سے بھرے اس ڈبے میں موجود لوگ ایک دوسرے کی کہانیوں سے یکسر نابلد ہیں۔ سیٹ نمبر 15 پر بیٹھا…
چلتن اور گردشِ دوراں (بلوچی ادب سے منتخب افسانہ)
کیا یہ ممکن ہے کہ گزری ہوئی مسرتوں اور شادمانیوں کا دور پھر ایک مرتبہ واپس آ جائے؟ چلتن کا بلند و بالا سلسلہ کوہ کوئٹہ سے تقریباً سولہ میل کے فاصلے پر مغرب کی جانب واقع ہے۔ کوہِ چلتن کے دامن میں ہزارگنجی کی سرسبز و شاداب چراگاہ ہے۔ اس کے دائیں جانب گوند…
ریو (برازیلی ادب سے منتخب افسانہ)
بیرونِ ملک سات برس گزارنے کے بعد میں موسمِ گرما میں ریو ڈی جنیرو پہنچی۔ سات طویل برسوں بعد فلیٹ کا دروازہ کھولا تو اندر ہر چیز پر پھپھوندی جمی تھی۔ اگر یہ پھپھوندی نہ ہوتی تو مجھے ایسا محسوس ہوتا کہ میں یہاں سے کہیں گئی ہی نہیں۔ بند گھر کی بُو ناقابلِ…
ٹوبیاس مائنڈرنکل (جرمن ادب سے منتخب افسانہ)
گودی سے شہر کے وسط تک جاتی گلیوں میں سے ایک گلی گرے اسٹریٹ کہلاتی ہے۔ اگر آپ دریا کی طرف سے جائیں تو تقریباً درمیان میں دائیں طرف مکان نمبر سینتالیس ہے، ایک پتلی اور خاکستری عمارت، جو اپنی پڑوسی عمارتوں سے مختلف نہیں ہے۔ نچلی منزل پر ایک دکان ہے، جہاں سے…
لوہے کا بکسا اور بندوق (ہندی ادب سے منتخب افسانہ)
تنہائی میں ڈوبتے، ابھرتے مارکُش کا پُلِسیا لائن میں یہ تیسرا سال تھا۔ تین سال، جیسے تین پوری صدیاں، لوہے کے بکسے اور بندوق کے ساتھ۔۔ لوہے کے بکسے میں بند زندگی گھسٹتی جا رہی تھی۔ یہ گھسٹنا اتنی دور تک نہیں ہوتا، اگر مارکُش کے والد جنگل چھوڑ کر مزدوری کے…
شیلٹر ہوم میں عید منانے والی افسانہ نگار
عید کی آمد آمد تھی، لوگ اپنے اپنے طریقہ سے عید منانے کی تیاریوں میں مصروف تھے، فوٹو جرنلسٹ اور ٹی وی اینکر پرسن ربابہ میرزئی بھی اپنی عید کوریج کے سلسلہ میں شہر سے باہر ایک شیلٹر ہوم یا بوڑھے اور نادار لوگوں کی پناہ گاہ آئی ہوئی تھی۔ اس کا یہ پروگرام عید…