منچھر جھیل: خاموش زہر اور ڈوبتی تہذیب کی المناک کہانی
منچھر جھیل صرف ایک آبی ذخیرہ نہیں، بلکہ سندھ کی تاریخ میں رچی بسی ایک زندہ تہذیب تھی، مگر آج یہ جھیل ایک ایسا کھلا زخم بن چکی ہے جس پر برسوں سے سرد مہری اور خاموشی کی پٹی باندھی جا رہی ہے۔ کبھی تقریباً اڑھائی سو مربع کلومیٹر پر پھیلی یہ میٹھے پانی کی…
ایک بُدھو (روسی ادب سے منتخب افسانہ)
کچھ دن قبل میں نے اپنے بچوں کی گورنس، جولیا ویسلوینا کو اپنی اسٹڈی میں بلایا۔ ”بیٹھ جاؤ جولیا ویسلوینا!“ میں نے کہا، ”آؤ ہم آپس میں حساب کتاب کر لیں۔۔ اگرچہ تمہیں پیسوں کی سخت ضرورت ہے لیکن تم تکلفاً کوئی تقاضہ نہیں کرو گی۔۔ ہمارے درمیان تیس روبلز ماہانہ…
ابال (منتخب اردو افسانہ)
جب دودھ ابل ابل کر کوئلوں پر گرنے لگا اور شاں۔۔۔ شاں کی آواز کے ساتھ ایک تیز سی بُو اٹھی تو چندن نے ہڑبڑا کر پتیلی کی طرف ہاتھ بڑھایا، جو کوئلوں کی تپش سے سرخ ہو رہی تھی۔ بےبسی کے انداز میں چندن نے جلد جلد ادھر ادھر دیکھا۔۔۔ کوئی کپڑا پاس نہ…
اداسی کا مسکراتا چہرہ: لوگوں کو ہنساتے کامیڈینز کے اندر کی درد بھری دنیا
امر جلیل کے مشہور سندھی ڈراما ’مٹیءَ جا مانڑھو‘ (مٹی کے آدمی) کا ایک مکالمہ ہے، ”میں وہ مسخرہ ہوں، جو دنیا کو ہنسا کر، پردے کے پیچھے جا کر رو پڑتا ہے۔۔“ یہ مکالمہ کامیڈینز کے مسکراتے چہرے کے پیچھے چھپے دکھ کی خوبصورت عکاسی کرتا ہے۔ کامیڈینز کی زندگی ایک…