کیا لاہور 1952ء کی دی گریٹ لندن اسموگ سے سبق حاصل کر پائے گا؟
مانچسٹر اور نیویارک کی فیکٹریاں صنعتی انقلاب کی فخریہ علامت سمجھی جاتی تھیں جو 18ویں صدی میں ترقی اور خوشحالی کے دور کا آغاز ثابت ہوئیں لیکن اس سنہری دور نے اپنے پیچھے ایک تاریک میراث چھوڑی۔ اس نے ماحولیاتی بحران کے بیج بوئے جن کا ہم آج سامنا کر رہے ہیں۔…
اکبرِ اعظم اور لاہور کا سموگ
دھواں اور دھند جب اندھا دھند آپس میں مل کے ہمارے اوپر کے آسمان پر ایک موٹی سی چھتری کی شکل میں سردیوں کے چار مہینے تک منجمد رہیں، تو اس کیفیت اور منظر کو سموگ کہتے ہیں۔ لاہور جو ماضیِ قریب تک اپنے کھابوں، فلم انڈسٹری اور مغلئی انگریز آرکیٹکچر کے سبب جانا…