تپتی دھوپ (ترک ادب سے منتخب افسانہ)
بچہ: ”اماں۔۔ اماں! کل صبح سے پہلے مجھے جگا دینا۔“ ”تم پھر نہیں جاگو گے۔“ ”نا جاگوں تو میرے جسم میں سوئی چبھونا، میرے بال کھینچنا، میری پٹائی کرنا۔“ پیلے چہرے والی پتلی دبلی عورت کی سیاہ آنکھوں میں خوشی سے بھرپور چمک دوڑ گئی۔ ”اور اگر تم پھر بھی نہیں جاگے…
سرد خزاں (روسی ادب سے منتخب افسانہ)
اس سال جون میں وہ ہماری جاگیر پر رہنے آیا۔ ہم نے اسے ہمیشہ خاندان کا ایک فرد سمجھا تھا، اس کے مرحوم والد میرے ابّا کے قریبی دوست اور پڑوسی تھے۔ پندرہ جون کو فرڈینینڈ کو سراجیوو میں قتل کر دیا گیا۔ سولہ تاریخ کی صبح ڈاک خانے سے اخبارات آ گئے۔ میرے ابّا…