سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط53)
سفر شروع کئے گھنٹہ بھر گزر چکا ہے۔ سورج اوپر اٹھ آیا ہے۔ آفتابی کرنوں میں سندھو کی سطح پر جیسے سفید موتیوں کی لہریں اتار دی ہیں۔ ہمارے سروں سے پرندوں کی بڑی ڈار اڑتی ہم سے ذرا دور سندھو کے سینے پر چمکتے پانیوں پہ اتر گئی ہے۔ چاچا گاماں بولا، ”سائیں! یہ…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط42)
ہم اٹک قلعہ کی مغربی دیوار کے قریب کھڑے ہیں۔ ہوا ٹھنڈی اور موسم خوشگوار ہے۔ میرے دائیں ہاتھ مشرقی سمت اٹک برج ہے، جس کے نیچے دریاؤں کا باپ اباسین (سندھو اس خطہ میں اباسین بھی کہلاتا ہے) پر سکون بہہ رہا ہے۔ یہ بالکل ایسا ہی پر سکون ہے، جیسے اژدھا شکار نگل…