یک طرفہ شادی (چینی ادب سے منتخب افسانہ)
قریب الختم خزاں کی ایک دوپہر سے ذرا پہلے، آسمان پر دھواں دھواں بادلوں کی اڑتی ٹکڑیاں دھوپ کے راستے سے ہٹیں تو گلیا،ں جنہیں ہوا صاف کر چکی تھی، چمکنے لگیں۔ عورتیں اور بچے اپنے اپنے دروازوں کے باہر کھڑے، خوش گپیوں میں مصروف تھے۔ ہوا اپنے ساتھ ترم کی صدا لے…
بوتیک (ہندی ادب سے منتخب افسانہ)
لفٹ ملازم نے گھما کر لفٹ کا دروازہ کھولا اور اماں اور مجھے گہری تنقیدی نظروں سے دیکھا۔ اس کے انداز سے یہ واضح تھا کہ وہ ہم سے زیادہ متاثر نہیں تھا: اماں اپنی سادہ سوتی ساڑھی میں اپنے ہلکے سفید بالوں کو روایتی انداز میں پیچھے باندھے ہوئے، دعوت نامے کو…
ایک ننھی سی مسکراہٹ (ہندی ادب سے منتخب افسانہ)
کپڑے بدلتے ہوئے راجن نے ریتا سے کہا، جو کچن میں رات کے کھانے کی تیاری کر رہی تھی، ”لفٹ میں آتے سمے میں نے ڈاکٹر پامانی کو لفٹ سے باہر نکلتے دیکھا ہے۔ بلڈنگ میں شاید کوئی بیمار ہے۔“ ریتا نے ہاتھ میں پکڑی پلیٹیں رومال سے پونچھتے ہوئے کہا، ”رتی بیمار ہے، آج…
ماں پڑھتی ہے (ہندی ادب سے منتخب افسانہ)
کئی مہنوں بعد گاؤں آیا ہوں۔ماں یہاں اکیلی رہتی ہے۔ آج گھر کا دروازہ کھلا ہے، ورنہ تو ماں صبح سویرے دروازہ بند کر کے باہر کا کام نمٹانے چلی جاتی ہیں۔ صبح کا سارا وقت حویلی میں گزرتا ہے۔جانوروں کو چارا ڈالتے، گائے کا دودھ دھوہتے، گوبر پھینکتے۔ اِس سمے بھی…
اداکار کی موت (منتخب افسانہ)
شیانوف ایک لحیم شحیم اداکار تھا۔ اداکاری کے فن میں نہ سہی اپنی جناتی ضخامت کی وجہ سے تھیٹر میں خاصا کامیاب بھی تھا اور سادہ لوح طبیعت کے باعث مقبول بھی۔ دوسرے اداکار اس سے چھیڑ چھاڑ کرتے رہتے۔ کوئی اس کو گینڈا کہتا۔ کوئی سرکاری سانڈ۔۔ لیکن سب اسے پیار…
قربانی (منتخب افسانہ)
خواہشات بغیر دستک دیے آدمی کے دل میں گھر کر جاتی ہیں اور جب تک وہ غور کرتا ہے تو یہ خواہشات اندر تک سرائیت کر چکی ہوتی ہے۔ اس آدمی کے اندر بھی خواہشوں کا جال پھیل رہا تھا لیکن اس کی تنخواہ محض 35 ہزار روپے تھی۔ وہ جب اپنی یا اپنے اردگرد…
چندراوتی (منتخب افسانہ)
چندراوتی سے میری محبت کا جب آغاز ہوا، اُسے مرے ہوئے تیسرا یا چوتھا دن تھا۔ میری آنکھوں کے سامنے اسے ایک سفید کپڑے میں لپیٹ کر شعلوں میں رکھ دیا گیا تھا اور بہت دیر تک ہمیں چرمر، چرمر کی سی آواز آتی رہی تھی۔۔۔۔ پھر اس کی راکھ بھی گنگا کی لہروں میں…
مرغ یا مرغی؟ (فلپینی ادب سے منتخب افسانہ)
میرے بھائی کیکو کے پاس ایک زمانے میں بڑا ہی خاص پرندہ تھا۔ خاص اس لیے کہ کوئی بھی یہ بتانے سے قاصر تھا کہ وہ مرغ ہے یا مرغی۔۔ بھائی کا ماننا تھا کہ یہ مرغ ہے، میرا کہنا تھا کہ یہ مرغی ہے۔ اس مدعے پر ہماری اتنی بحث ہوئی کہ ہم پٹتے…