جگنوؤں بھری تھیلی
تبّت کی ہر وادی برف سے ڈھک گئی تھی۔ راتیں سیاہ تھیں اور لمبی لیکن سفید برف اس سیاہی میں عجیب سا منظر بنا دیتی۔ ایک دُور وادی میں، جو کہ چار پہاڑوں کے عقب میں تھی، بانس کی ایک کٹیا کھڑی تھی یہ بوڑھے بانگو کا کاشانہ ہے۔۔ جھونپڑی کے دروازے پر لکڑی کا…
ایک انتہائی سبق آموز کہانی کا دوسرا رخ
زندگی میں سیکھنے کے لیے بہت کچھ ہے، بس آپ کو سبق سکھانے والا استاد ہونا چاہیے۔ آنکھ کا کُھلنا کیسا ظالم سبق ہے۔ نہ کھلے آنکھ، ہیں جی؟ پھر کیا ہوگا؟ کھلے اور بند ہو جائے اور پھر نہ کھلے؟ کھل جائے اور سامنے کوئی بھیانک منظر ہو۔ تو نارمل حالات میں آنکھ…
اور جب 96 کے ورلڈکپ میں کینیا سے اپ سیٹ شکست پر برائن لارا پر نسلی تعصب کا الزام لگا۔۔
ان دنوں بھارت میں ہونے والے کرکٹ ورلڈ کپ کا دور دورہ ہے اور ہر محفل میں اس کا چرچا ہو رہا ہے۔ خاص طور پر جب نسبتاً کسی کمزور ٹیم کے ہاتھوں کسی مضبوط اور تجربہ کار ٹیم کو اپ سیٹ شکست ملتی ہے، تو اس پر خوب لے دے ہوتی ہے سنہ 2023…
کپڑے ہمیں بناتے ہیں۔۔ (فرانسیسی ادب سے منتخب افسانہ)
نوٹ: اس مختصر کہانی میں فرانسیسی مصنف ہنری ڈوورنوئس نے گھروں میں ڈاکے ڈالنے والے ڈاکوؤں کے ایک گروہ کی کہانی بیان کی ہے۔ پولیس اہلکار کے لباس میں ٹینگو گارڈ کے طور پر کھڑا تھا، جبکہ دیگر دو چور گھر میں گھس جاتے ہیں۔ کیونکہ اگر کوئی پولیس اہلکار قریب نظر…
فلمی کہانی جیسا خفیہ منصوبہ، جب پاکستان میں زیادہ آم کھانے سے ’کسنجر‘ کا خفیہ دورۂ چین خطرے میں پڑ گیا
یہ جولائی 1971 کی بات ہے، پاکستانی حکام کو اس وقت ایک عجیب و غریب صورتِ حال کا سامنا کرنا پڑا، کیوں کہ پاکستان میں موجود ’ہنری کسنجر‘ کی طبیعت زیادہ آم کھانے سے خراب ہو گئی تھی اور انہیں ایسے ڈاکٹر کی تلاش تھی، جو انہیں پہچانتا نہ ہو یہ سفارت کاری کی…
کورنگی کی مختصر ترین تاریخ
سب سے پہلے کچھ ذکر کورنگی کے نام کا۔۔ کورنگی کے معنی ہندی زبان میں الائچی کے ہیں۔ اس نام کی مناسبت سے دو مفروضے قائم کیے جاسکتے ہیں. ایک تو یہ کہ کورنگی کی بندرگاہ سے کسی زمانے میں الائچی کا کاروبار ہوتا ہوگا یا پھر یہاں الائچی کی کاشت ہوتی ہوگی۔ مگر یہ…
کراچی کے میوزیم میں رکھے چاند کے ٹکڑے کی کہانی
چاند کی خوبصورتی پر بہت شاعری کی گئی ہے۔ ہمارے ہاں کسی کی خوبصورتی کی تعریف کرنی ہو تو اکثر اسے ’چاند کا ٹکڑا‘ کہا جاتا ہے۔۔ لیکن اگر آپ کو واقعی چاند کا ٹکڑا دیکھنا ہے تو آپ کراچی میوزیم میں اسے دیکھ سکتے ہیں، جس کے بعد امید ہے کہ آپ کسی کے…
’انڈس کوئین‘ اور ’ڈیرہ کے ٹائیٹینک‘ کی داستان، جو کبھی دریا میں سفر کا ذریعہ تھیں۔۔
یہ 1857ع کی بات ہے، جب ریاست بہاولپور کے نواب صادق چہارم نے برطانیہ سے اپنے بحری بیڑے کے لیے بڑی کشتیاں منگوائیں، جن میں سے ایک جہاز فتح بہادر، دوسرا دی پرنس اور تیسرا انڈس کوئین تھا کشتی ستلج کوئین نواب بہاولپور کے ذاتی استعمال میں رہتی اور اس وقت جب…