بے نیل مرام (برازیلی ادب سے منتخب افسانہ)
آؤ ربڑ اکٹھا کرنے چلیں۔۔ یہ جملہ امازون کے کنارے سال کے چند مخصوص مہینوں میں سننے کو ملتا ہے۔ مرد کھیتی چھوڑ دیتے ہیں، عورتیں گھر کے کام کاج بھول جاتی ہیں اور لڑکیاں پھول چننا موقوف کر دیتی ہیں۔ یہ جملہ ہر ایک کی زبان پر ہوتا ہے۔ یہ جملہ ایک تیوہار، ایک…
رات کو تو چوہے سوتے ہیں (جرمن ادب سے منتخب افسانہ)
نوٹ: جنوری 1947ع میں لکھی گئی یہ مختصر کہانی ایک ایسے قصبے میں ترتیب دی گئی ہے، جسے جنگ کے دوران بم حملے میں تباہ کر دیا گیا ہے۔ ایک نو سالہ لڑکا اس جگہ کی حفاظت کر رہا ہے، جہاں اس کا مردہ بھائی چوہوں سے بچانے کے لیے ملبے کے نیچے پڑا ہے۔…
ست رنگے پرندے کے تعاقب میں (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
ناشتہ کرتے ہوئے اچانک ہی خیال آیا کہ پچھلے ٹیرس پر پڑی چارپائی کو بنوانا چاہیے۔ محلے والے گھر سے اس نئے گھر میں منتقل ہوتے ہوئے اپنا بہت سا پرانا سامان وہیں بانٹ بونٹ آئے تھے۔ بس یہ ایک چارپائی کسی طرح ساتھ آ گئی۔ کچھ عرصہ پچھلے ٹیرس پر دھوپ میں…
نابینا چینی سپاہی (جاپانی ادب سے منتخب افسانہ)
یہ نو مارچ انیس سو پینتالیس کا واقعہ ہے کہ اتفاق سے عجیب بات ہوئی کہ جس وقت ایک بڑا ہوائی حملہ ہوا، اس وقت گوما کا آسمان بہت صاف اور شفاف تھا، ایک جہاز جو شاید اوٹا کے علاقے سے اٹھا تھا، شمالی ہواؤں کے ساتھ اڑتا ہوا گذر گیا۔ میں جو ایک ایسا…
تضاد (ایرانی ادب سے منتخب افسانہ)
جیسے ہی وہ دفتر میں داخل ہوا، سپرنٹنڈنٹ اپنی نشست سے اٹھ کھڑا ہوا اور ایک کرسی کو ہیٹر کے قریب کرتے ہوئے کہنے لگا: ’’واہ جناب، حاجی صاحب! کہاں رہ گئے تھے؟“ توے جیسی سیاہ رنگت کا حامل یہ شخص پچاس ساٹھ برس کی عمر کا تھا۔ اس کی صحت اچھی تھی اور وہ…
ایک نسل کا تماشا (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
مجھے معلوم نہیں کہ میرا اس کہانی سے کیا تعلق ہے اور یہ کہانی کس نے مجھے سنائی ہے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ میں اس کہانی کے ایک ایک منظر سے واقف ہوں اور اس لمحے کو بھی دیکھ سکتا ہوں، جب ایک روز گزرتے ہوئے بادشاہ کی نظر ایک درویش پر پڑی، بادشاہ…
جہاں دیدہ (روسی ادب سے منتخب افسانہ)
ڈیڈوِل اسٹیشن پہنچتے ہی سروے افسر گلیب سمرنوف نے دیکھا کہ وہ فارم، جس کا اس نے جائزہ لینا تھا، ابھی بھی تیس یا چالیس میل کی دوری پر تھا۔ اگر کوچوان نے پی ہوئی نہ ہو اور گھوڑے چاق و چوبند ہوں تو فاصلہ تیس میل سے کم ہوگا، مخمور گاڑی بان اور پرانی…
سیاہ بختی (افسانہ)
بستی نے کالی قبا اوڑھ رکھی تھی۔۔ گھروں کی خستہ حال چھتوں پر سیاہ برف کی سی چادر تنی تھی۔۔ دھوئیں کے مرغولوں نے فضا کو مکدر بنا رکھا تھا۔ گدلے پانی اور کوئلے کے ملاپ سے بنے گارے نے زمین کو سیاہی میں ڈبو رکھا تھا۔۔ پینتیس ہزار کی اس آبادی میں زندگی، کوئلے…