مشینوں کے غلام لوگ زندگی کے راستے سے بھٹکنے لگے
کبھی وہ بھی دن تھے جب گاڑی کی کھڑکیاں کھول کر تازہ ہوا کو گلے لگاتے، راستوں کے حسین مناظر دیکھتے، اور سفر کو زندگی کا ایک خوبصورت حصہ سمجھتے تھے۔ گاڑی میں گیت گانے اور قہقہے لگانے کا ایک الگ ہی مزا تھا۔ اگر راستہ بھول بھی جاتے تو کوئی پریشانی نہیں ہوتی…
تھر: اپنے دلوں کے دروازے کھلے رکھنے والے وہ لوگ، جو پانی کے کنوؤں پر تالے لگانے پر مجبور ہیں!
تھر کے لوگ، جن کی اپنی زندگی سختیوں سے گندھی ہوتی ہے، مہمان کے لیے نرمی اور مٹھاس کا ایک الگ خزانہ رکھتے ہیں۔ اگر کوئی مسافر پیاسا آئے، تو چاہے گھر میں پانی کا آخری گھونٹ ہی کیوں نہ ہو، وہ پہلے مہمان کے لیے رکھا جائے گا۔ یہاں کے لوگ اپنے روایتی چادر،…
ایک ٹیلی وژن کی موت (ہندی ادب سے منتخب افسانہ)
پرماتما کی بے پناہ مہربانی سے آج میں ساڑھے تین منزلہ کوٹھی کا مالک ہوں۔ کبھی ایک معمولی ملازم کی حیثیت سے دبئی گیا تھا، صنعتکار اور کروڑپتی بن کر واپس آیا۔ میری کئی فیکٹریاں ہیں، گھر میں خوبصورت اور نیک بیوی ہے، لائق بچے ہیں، نوکر چاکر ہیں، دروازے پر دو…
ڈاچی (افسانہ)
پی سکندر کے مسلمان جاٹ باقر کو اپنے مال کی طرف حریصانہ نگاہوں سے تاکتے دیکھ کر او کانہہ کے گھنے درخت سے پیٹھ لگائے، نیم غنودگی کی سی حالت میں بیٹھا چودھری نندو اپنی اونچی گھر گھراتی آواز میں للکار اٹھا۔۔۔ ’’رے رے اِٹھے کے کرے ہے؟‘‘ (ارے یہاں کیا کر رہا…