کوٹری: انڈس فلوٹیلا، سندھ ریلوے اور برٹن کے دو سفر (پہلا حصہ)
گزرگاہیں کتنی ہی پرانی کیوں نہ ہوں، چاہے اُن پر سے صدیوں کے شب و روز ایک ایک کرکے گزر جائیں، کتنے مٹی کے طوفان آئیں، بادل گرجیں اور آسمان سے بہتا پانی سب جل تھل کردے مگر گزرگاہوں پر سے گزرے قافلوں کے نشان کبھی فنا نہیں ہوتے۔ وہ سینہ بہ سینہ چلتی کتھاؤں…