کھیرتھر کا سفر: کھیرتھر اب تباہی کے سائے میں (پانچویں قسط)
تؤنگ کے بازار پہنچتے ہی دور دور تک پہاڑوں کے درمیان پھیلی ہوئی ہریالی نے دل موہ لیا۔ کہیں گندم کی فصلیں اور ان کی کٹائی ہو رہی تھی تو کہیں تھریشر چل رہا تھا، اور کہیں پیاز کی فصل تیار کھڑی تھی۔ کچھ مزدور مرد اور عورتیں کھیتوں کے کام میں مشغول تھے، کہیں…
خوف، مزاحمت اور دیواروں میں قید گواہی
کل شام، اپنے گاؤں کے درختوں کے سائے میں اور فصلوں کے درمیان چلتے ہوئے، جب اچانک ایک اژدھے پر نظر پڑی، جسے ہم بھیڑیا ٹاؤن کہتے ہیں، تو ایک لمحے کو خوف سے آنکھیں بند ہو گئیں۔ یہی گاؤں، میری جنم بھومی، جس کے آنگن میں کبھی طرح طرح کے درختوں کی چھاؤں ہوا…
اراولی مزاحمت، کارونجھر جدوجہد اور کھیرتھر پر مسلط خاموشی
جب کسی خطے میں پہاڑ خطرے میں پڑ جائیں تو سمجھ لینا چاہیے کہ وہاں صرف قدرت نہیں، انسان بھی غیر محفوظ ہو چکا ہے۔ آج ہندوستان کے گجرات و راجستھان میں اراولی، سندھ کے تھر میں کارونجھر اور کراچی کے کنارے کھیرتھر اسی انجام کی طرف دھکیلے جا رہے ہیں۔ بظاہر یہ…
ملیر اور کارپوریٹ سامراج کی نئی یلغار
اگر ملیر کی تاریخ کو باریک بینی سے دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ یہ علاقہ آج بھی نوآبادیاتی کالونیل ازم کے دائرے میں سامراجی طاقتوں کی پیدا کردہ سازشی حالات سے گزر رہا ہے۔ برطانوی سامراج بظاہر تو اس سرزمین سے رخصت ہوگیا، لیکن درحقیقت اس نے اپنے دلالوں کو…
ایجوکیشن سٹی: تعلیم کے نام پر زمین ہتھیانے کا نیا سرمایہ دارانہ کھیل
کراچی کے ضلع ملیر میں ”ایجوکیشن سٹی“ کے نام پر ایک نیا کمرشل تعلیمی پروجیکٹ زیرِ تکمیل ہے۔ بظاہر یہ منصوبہ تعلیم کے فروغ کے لیے ایک مثبت اقدام دکھائی دیتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ سرمایہ دارانہ نظام کے تحت زمین کے حصول کا ایک اور باب بنتا جا رہا ہے۔ یہ…
کوڑے داں (مختصر افسانہ)
علی داد گوٹھ، پہاڑوں کے دامن میں واقع ایک چھوٹا سا گاؤں ہے، جہاں ہوا کبھی پاکیزگی کی قسم کھاتی تھی۔ بارش کے بعد جب ندیاں بہتی تھیں، تو زمین کی خوشبو سانسوں میں سمٹ جاتی تھی، گویا کہیں ماں نے بچے کو گود میں لے رکھا ہو۔ یہ ندیاں موسمی تھیں چند مہینوں کے…
تہذیبوں کا تصادم : فطرت اور کنکریٹ کی جنگ
تصویر کا ایک منظر ہزاروں سال پرانی زرعی تہذیب کی عکاسی کرتا ہے، جہاں سرسبز کھیتوں میں گائے کھڑی ہے، اور دوسرا منظر نام نہاد شہری ترقی کی ہے، جس کی نمائندگی مطلب قبضہ بھیڑیا ٹاؤن کی گرینڈ مسجد کررہے ہے۔ یہ دونوں مناظر ایک فریم میں ہیں، مگر ان کے درمیان…
اکبر گبول اور گرینڈ مسجد (افسانہ)
سحر کی گود میں سورج ابھی نیند سے جاگنے کے لیے اپنی آنکھیں مَل رہا تھا۔ فضا میں اذان کی نرم آواز مصری کی ڈلی کی طرح گُھل کر تحلیل ہو رہی تھی۔ پرندے چہچہا کر آہستہ آہستہ اپنے پر تول رہے تھے۔ ’پہوارو‘ کے پہاڑوں پر قائم ایک بڑے ہاؤسنگ پروجیکٹ کی ہوا میں…