اداکار کی موت (منتخب افسانہ)
شیانوف ایک لحیم شحیم اداکار تھا۔ اداکاری کے فن میں نہ سہی اپنی جناتی ضخامت کی وجہ سے تھیٹر میں خاصا کامیاب بھی تھا اور سادہ لوح طبیعت کے باعث مقبول بھی۔ دوسرے اداکار اس سے چھیڑ چھاڑ کرتے رہتے۔ کوئی اس کو گینڈا کہتا۔ کوئی سرکاری سانڈ۔۔ لیکن سب اسے پیار…
حسنِ کامل
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک آدمی تھا، جس نے محبت کی شادی کی مگر فرصت کے اوقات میں وہ پچھتاتا رہتا تھا۔ وہ پیشےکے لحاظ سے ایک کھلونا ساز تھا، اور بے عیب کام کے لیے اس کا جنون پوری دنیا میں مشہور تھا۔ کہا جاتا تھا کہ اس نے ایک میکانکی پرندہ…
قربانی (منتخب افسانہ)
خواہشات بغیر دستک دیے آدمی کے دل میں گھر کر جاتی ہیں اور جب تک وہ غور کرتا ہے تو یہ خواہشات اندر تک سرائیت کر چکی ہوتی ہے۔ اس آدمی کے اندر بھی خواہشوں کا جال پھیل رہا تھا لیکن اس کی تنخواہ محض 35 ہزار روپے تھی۔ وہ جب اپنی یا اپنے اردگرد…
اندھیروں کے عادی۔۔ تین مختصر کہانیاں
اندھیروں کے عادی معلوم نہیں کتنی مدت وہ سوتا رہا، حتیٰ کہ وہ اکتا گیا۔ ”آخر یہ سورج کیوں نہیں نکل رہا؟ رات ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی“ اس نے سوچا۔ ”اس ناختم ہونے والے اندھیرے کے بارے میں کس سے پوچھوں، مجھے پڑوسیوں سے پوچھنا چاہیے۔“ پھر وہ آدمی اپنے…
لوہے کا بکسا اور بندوق (ہندی ادب سے منتخب افسانہ)
تنہائی میں ڈوبتے، ابھرتے مارکُش کا پُلِسیا لائن میں یہ تیسرا سال تھا۔ تین سال، جیسے تین پوری صدیاں، لوہے کے بکسے اور بندوق کے ساتھ۔۔ لوہے کے بکسے میں بند زندگی گھسٹتی جا رہی تھی۔ یہ گھسٹنا اتنی دور تک نہیں ہوتا، اگر مارکُش کے والد جنگل چھوڑ کر مزدوری کے…
کیداری کی ماں (انڈین ادب سے منتخب کہانی
تمہید: حال ہی میں جب میں نے اخباروں میں ‘امامی اپالم’ (خالا کے پاپڑ) کا اشتہار دیکھا تو حیران سا رہ گیا کیونکہ مجھے بھاگیرتی امامی یاد آ گئی تھیں۔ جب مجھے ان کے دلارے بیٹے اور اپنے بہترین دوست کیداری کی بے وقت موت کا خیال آیا تو میرے بدن میں بے چینی کی…
بادِ نو بہار (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
اس نے دیکھا کہ جن حویلیوں کے در دیمک کھا گئی، ان کی خستہ اینٹوں سے نئی کونپلیں جنم لے رہی تھی۔برسوں پہلے جہاں صور پھونک دیا گیا تھا، وہاں سے قلقاریوں کی صدائیں سنائی دے رہی تھیں۔ بے رنگ دریچوں پر لٹکے پھٹے ہوئے پردوں کے پیچھے سے جو اداس آنکھیں جھانکتی…
افواہ (امریکی ادب سے منتخب افسانہ)
قصبے کی انتظامیہ کا سالانہ اجلاس ہو رہا تھا۔ جارج ولیمز کو یہ سعادت نصیب ہوئی کہ اس نے سیم بلنگز کا نام بطور خزانچی پیش کر دیا۔ حیرت کی بات یہ کہ سب لوگوں نے بڑے جوش و خروش سے اس کی تائید کی اور وہ بلا مقابلہ ہی خزانچی بن گیا۔ یہ ایندروسکوگن…