پاگل کتا (افسانہ)
روشن پور کے خوبصورت محلے میں زندگی پرسکون اور معمول کے مطابق رواں دواں تھی۔ گھروں کے ارد گرد سفید باڑیں تھیں، جہاں خوشیاں تھیں، مسکراہٹیں تھیں ۔ لیکن یہ سب کچھ چوہان خاندان کے خطرناک ’لکی‘ کی آمد سے پہلے تھا۔ لکی عام کتوں جیسا نہیں تھا۔ اس کی موجودگی میں…
چندراوتی (منتخب افسانہ)
چندراوتی سے میری محبت کا جب آغاز ہوا، اُسے مرے ہوئے تیسرا یا چوتھا دن تھا۔ میری آنکھوں کے سامنے اسے ایک سفید کپڑے میں لپیٹ کر شعلوں میں رکھ دیا گیا تھا اور بہت دیر تک ہمیں چرمر، چرمر کی سی آواز آتی رہی تھی۔۔۔۔ پھر اس کی راکھ بھی گنگا کی لہروں میں…
چلتی ٹرین میں رُکی ہوئی کہانی (منتخب افسانہ)
ٹرین کی کھڑکی بند ہے لیکن بارش کی بوندیں لگاتار اس پر دستک دے رہی ہیں، تیز برستی بارش میں میدانوں میں کھڑے درخت بھی دھندلے دکھائی دے رہے ہیں۔ کھچا کھچ مسافروں سے بھرے اس ڈبے میں موجود لوگ ایک دوسرے کی کہانیوں سے یکسر نابلد ہیں۔ سیٹ نمبر 15 پر بیٹھا…
نیند، خوف اور سابقہ بازی گر (منتخب افسانہ)
وہ موت کے کنویں میں موٹرسائیکل چلاتا تھا اور اس کی بیوی کو نیند میں چلنے کی عادت تھی۔ وہ جب سارا دن موٹرسائیکل چلا چلا کر تھکا ہارا گھر آ کر سو جاتا تو رات کے کسی پہر اس کی بیوی جاگ جاتی اور اس کی جیبوں کی تلاشی لینے لگتی۔ اسد علی بازی…
ذات (منتخب اردو افسانہ)
ملک عابد کا پہلا لقمہ ابھی منہ ہی میں تھا کہ اسے یوں محسوس ہوا جیسے اس کا ذائقہ کڑوا ہو گیا ہے۔ اس نے فوراً پانی کا گلاس منہ سے لگا کر نوالہ نگلا۔ اس کی بیوی نے بات ہی ایسی کردی تھی۔ پچھلے پانچ سالوں میں اس نے گاؤں میں اپنی ساکھ بنانے…
زویا (یوگوسلاوین ادب سے منتخب افسانہ)
جب کسی شخص کی بچپن کی عرفیت لوگ اس کی زندگی کے آخری ایام تک یاد رکھتے ہیں تو یہ خود اس کے اور لوگوں میں اس کی حیثیت کے بارے میں بہت کچھ بتاتی ہے۔ میری ذاتی یادوں میں ایک بوڑھی ناتواں عورت ہمیشہ زندہ رہتی ہے جو ہمیشہ سرمئی اسکارف باندھتی تھی اور…
کھیت میں پیدا ہونے والا بچہ (ترک ادب سے منتخب افسانہ)
کپاس کے کھیت میں حدِ نظر پندرہ بیس مزدور مرد اور عورتیں دکھائی دے رہی تھیں۔ وہ کپاس کے تخم دار بوٹوں کے اطراف میں اُگ آنے والے جنگلی پودوں اور جھاڑیوں کو صاف کررہے تھے۔ ساتھ ہی ساتھ فصل بھی کاٹ رہے تھے۔ درجۂْ حرارت تیز دھوپ میں 41 سینٹی گریڈ تک پہنچا…
سوا سیر گیہوں (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
کسی گاؤں میں شنکر نامی ایک کسان رہتا تھا۔ سیدھا سادا غریب آدمی تھا۔ اپنے کام سے کام، نہ کسی کے لینے میں نہ کسی کے دینے میں۔۔ چھکّا پنجا نہ جانتا تھا۔ چھل کپٹ کی اسے چھوت بھی نہ لگی تھی۔ ٹھگے جانے کی فکر نہ تھی۔ ودّیا نہ جانتا تھا۔ کھانا ملا تو…