سانجھ
لالہ جی کو یہ بات کھل گئی کہ بڑھیا (لالائن) نے بال کٹوا دئیے اور ان سے پوچھا بھی نہیں۔ پچھلے مہینے ان کی بہو مائیکے گئی تھی تو اپنی ساس کو ساتھ لے گئی تھی، دلی۔ کہ ٹرین میں گود کے بچے کو سنبھالنے میں آسانی رہےگی۔ لالہ جی سے خود مایا دیوی نے…
زرد کتا
ایک چیز لومڑی کا بچہ ایسی اس کے منہ سے نکل پڑی۔ اس نے اسے دیکھا اورپاؤں کے نیچے ڈال کر روندنے لگا، مگر وہ جتنا روندتا تھا اتناوہ بچہ بڑا ہوتا جاتا تھا۔ جب آپ یہ واقعہ بیان فرما چکے تھے تو میں نے سوال کیا، ’’یا شیخ۔۔۔ لومڑی کے بچہ کا رمز کیا…
پرندوں کا یکساں قومی نصاب
آج پھر صبح ہونے کی دیر تھی۔ دیوار پر پھر شور تھا۔ پرندے چہک رہے تھے۔ چمگادڑیں رات کی جدائی کا نوحہ کر رہی تھیں۔ کبوتروں نے غول در غول غل مچا رکھا تھا۔ دیوار کے نیچے ایک تاریک غار تھی۔ پرندوں کے پر اس غار میں گر رہے تھے۔ منظر بہت دلخراش تھا۔ پاتال…
سینما کا عشق (طنز و مزاح)
”سینما کا عشق“ عنوان تو عجب ہوس خیز ہے۔ لیکن افسوس کہ اس مضمون سے آپ کی تمام توقعات مجروح ہوں گی۔ کیونکہ مجھے تو اس مضمون میں کچھ دل کے داغ دکھانے مقصود ہیں۔ اس سے آپ یہ نہ سمجھئے کہ مجھے فلموں سے دلچسپی نہیں یا سینما کی موسیقی اور تاریکی میں جو…
چھ مختصر اور منفرد افسانے
1. لمحے بھر کی زندگی مکڑی کا جالا، ذرا سا ہٹا۔ ”دنیا دیکھنا چاہتا ہوں“ مکڑی کے بچے نے سوچا چھپکلی نے فوراً اسے کھا لیا.. ”جالا ہی میری دنیا تھی“ مکڑی کے بچے نے چھپکلی کے منہ میں سوچا دکان کی چھت پر لگے جالے میں کہانی ختم ”چاچا گرمی ہے کوئی ٹھنڈا پانی…
جُھوٹی کہانی
کچھ عرصے سے اقلیتیں اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے بیدار ہورہی تھیں۔ ان کو خوابِ گراں سے جگانے والی اکثریتیں تھیں، جو ایک مدت سے اپنے ذاتی فائدے کے لیے ان پر دباؤ ڈالتی رہی تھیں۔ اس بیداری کی لہر نے کئی انجمنیں پیدا کردی تھیں۔ ہوٹل کے بیروں کی انجمن۔ حجاموں کی…
ایک بڑھیا کی تنہائی (عربی ادب سے منتخب افسانہ)
وہ اپنے بستر میں بے سدھ پڑی تھی۔ ایک ہاتھ اور آنکھوں کے سوا اس کا سارا جسم مفلوج تھا۔ نقاہت اِس قدر تھی کہ ہاتھ کو بھی وہ محض سینے تک حرکت دے سکتی تھی۔ بیماری نے اس کی ساری طاقت گویا سلب کر لی تھی۔ اس کا گوشت سوکھ گیا تھا۔ نیلاہٹ کی…
پرمیشر سنگھ (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
اختر اپنی ماں سے یوں اچانک بچھڑ گیا جیسے بھاگتے ہوئے کسی جیب سے روپیہ گر پڑے۔ ابھی تھا اور ابھی غائب۔ ڈھنڈیا پڑی مگر بس اس حد تک کہ لٹے پٹے قافلے کے آخری سرے پر ایک ہنگامہ صابن کی جھاگ کی طرح اٹھا اور بیٹھ گیا۔ ’’کہیں آ ہی رہا ہو گا۔‘‘ کسی…