کتھا ایک پیپل کی (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
سارے کا سارا پیپل کا درخت کھلکھلا کر ہنس پڑا اور ہنستےہنستے اس کا قد فٹ بھر اور اونچا ہو گیا۔ پرندوں نے پیپل کی ہلتی ہوئی شاخوں پر اپنے پیر دبا لیے۔۔ اور ایک کوا کائیں کائیں کرنے لگا۔ ’’گھبراتے کیوں ہوں بھئی؟ اپنا پیپل کاکا ذرا ترنگ میں آ گیا ہے اور…
جاگیردار (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
وہ بارہ تیرہ سال کی بڑی معصوم شکل چھوکری تھی۔ دروازہ کھلتے ہی پہلے تو مجھے دیکھ کراس نے اپنا ہاتھ جھٹ سے پیچھے کر لیا اور پھر جھجکتے ہوئے اسی ہاتھ کو آگے بڑھا کر بولی، ’’یہ چٹھی۔۔۔‘‘ میں اس کے ہاتھ سے کاغذ کا پرزہ لے کر پڑھنے لگا۔ ’جناب عالی، میں آپ…
نیند، خوف اور سابقہ بازی گر (منتخب افسانہ)
وہ موت کے کنویں میں موٹرسائیکل چلاتا تھا اور اس کی بیوی کو نیند میں چلنے کی عادت تھی۔ وہ جب سارا دن موٹرسائیکل چلا چلا کر تھکا ہارا گھر آ کر سو جاتا تو رات کے کسی پہر اس کی بیوی جاگ جاتی اور اس کی جیبوں کی تلاشی لینے لگتی۔ اسد علی بازی…
زویا (یوگوسلاوین ادب سے منتخب افسانہ)
جب کسی شخص کی بچپن کی عرفیت لوگ اس کی زندگی کے آخری ایام تک یاد رکھتے ہیں تو یہ خود اس کے اور لوگوں میں اس کی حیثیت کے بارے میں بہت کچھ بتاتی ہے۔ میری ذاتی یادوں میں ایک بوڑھی ناتواں عورت ہمیشہ زندہ رہتی ہے جو ہمیشہ سرمئی اسکارف باندھتی تھی اور…
سچائی (اطالوی ادب سے منتخب افسانہ)
سارا ارجنٹا کو، جس کی عرفیت ترارا تھی، جوں ہی کمرہِ عدالت کے باقی حصوں سے باڑ لگا کر کٹہرے میں لایا گیا، اس نے پہلا کام یہ کیا کہ اپنی جیب سے پیلے پھولوں والا ایک سرخ سوتی رومال نکالا اور نشست پر احتیاط سے پھیلا دیا تاکہ اس کے تہوار جیسے لباس پر…
پازیب (ہندی ادب سے منتخب افسانہ)
بازار میں ایک نئی طرح کی پازیب چلی ہے۔ پیروں میں پڑ کر وہ بڑی اچھی معلوم ہوتی ہے۔ اس کی کڑیاں آپس میں لچک کے ساتھ جڑی رہتی ہیں کہ پازیب کی گویا اپنی شکل کچھ نہیں ہے، جس پاؤں میں پڑے، اسی کے مطابق رہتی ہے۔ پاس پڑوس میں تو سب ننھی بڑی…
امام دستہ (ہندی ادب سے منتخب افسانہ)
قصبے میں سوکھے میووں کے سب سے پرانے بیوپاری روشن آغا کی کوٹھی میں اس صبح خفگی کا ماحول تھا۔ آنگن میں چمپا کے جھرمٹ میں چھپی چڑیاں چپ تھیں۔ تیسری کلاس میں پڑھنے والا ان کا نواسا، مِیسَم روز کی طرح سلام کر کے ممی سے گال ملانے گیا تو انہوں نے جھڑک دیا۔…
عکسِ بے خیال (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
پچھلے کئی دنوں سے پرانا گھر میرا پیچھا کر رہا ہے، اس گھر میں میری زندگی کے بہت سے سورج طلوع اور غروب ہوئے۔ میں نے زندگی کے پہلے زینہ پر وہیں قدم رکھا تھا اور جب میں وہاں سے نکلا تو زندگی کے زینے اتر رہا تھا۔ وہاں کی ایک ایک دیوار پر میری…