زمیں زادے (افسانہ)
رات کی سیاہی اپنی چادر پھیلا چکی تھی اور چہار سو مہیب خاموشی کا راج تھا۔ ریڈ انڈین قبیلے کا ایک بوڑھا شخص ایلان، قدیم جنگل کے کنارے اداس بیٹھا تھا، جہاں کبھی اس کا قبیلہ آزاد گھومتا تھا۔ یہ جنگل اب جدید دنیا کے تیز رفتار قدموں کے نیچے دب چکا تھا۔ یہاں کی…
کتھا ایک پیپل کی (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
سارے کا سارا پیپل کا درخت کھلکھلا کر ہنس پڑا اور ہنستےہنستے اس کا قد فٹ بھر اور اونچا ہو گیا۔ پرندوں نے پیپل کی ہلتی ہوئی شاخوں پر اپنے پیر دبا لیے۔۔ اور ایک کوا کائیں کائیں کرنے لگا۔ ’’گھبراتے کیوں ہوں بھئی؟ اپنا پیپل کاکا ذرا ترنگ میں آ گیا ہے اور…
جاگیردار (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
وہ بارہ تیرہ سال کی بڑی معصوم شکل چھوکری تھی۔ دروازہ کھلتے ہی پہلے تو مجھے دیکھ کراس نے اپنا ہاتھ جھٹ سے پیچھے کر لیا اور پھر جھجکتے ہوئے اسی ہاتھ کو آگے بڑھا کر بولی، ’’یہ چٹھی۔۔۔‘‘ میں اس کے ہاتھ سے کاغذ کا پرزہ لے کر پڑھنے لگا۔ ’جناب عالی، میں آپ…
پیتل کا گھنٹہ (منتخب افسانہ)
آٹھویں مرتبہ ہم سب مسافروں نے لاری کو دھکا دیا اور دھکیلتے ہوئے خاصی دور تک چلے گئے، لیکن انجن گنگنایا تک نہیں۔ ڈرائیور گردن ہلاتا ہوا اتر پڑا۔ کنڈکٹر سڑک کے کنارے ایک درخت کی جڑ پر بیٹھ کر بیڑی سلگانے لگا۔ مسافروں کی نظریں گالیاں دینے لگیں اور ہونٹ…
وہ جو دیوار کو نہ چاٹ سکے۔۔۔ (اُردو ادب سے منتخب تمثیلی افسانہ)
پھر یہی ہوا کہ یاجوج ماجوج رات بھر دیوار کو چاٹا کیے۔۔ یہاں تک کہ دیوار تحلیل ہوتے ہوتے انڈے کے چھلکے کی مانند ہو گئی اور پھر یاجوج ماجوج تھک گئے اور انہیں نیند آنے لگی اور وہ یہ کہہ کر سو گئے کہ باقی دیوار صبح کو چاٹیں گے۔۔ مگر جب وہ صبح…
پازیب (ہندی ادب سے منتخب افسانہ)
بازار میں ایک نئی طرح کی پازیب چلی ہے۔ پیروں میں پڑ کر وہ بڑی اچھی معلوم ہوتی ہے۔ اس کی کڑیاں آپس میں لچک کے ساتھ جڑی رہتی ہیں کہ پازیب کی گویا اپنی شکل کچھ نہیں ہے، جس پاؤں میں پڑے، اسی کے مطابق رہتی ہے۔ پاس پڑوس میں تو سب ننھی بڑی…
امام دستہ (ہندی ادب سے منتخب افسانہ)
قصبے میں سوکھے میووں کے سب سے پرانے بیوپاری روشن آغا کی کوٹھی میں اس صبح خفگی کا ماحول تھا۔ آنگن میں چمپا کے جھرمٹ میں چھپی چڑیاں چپ تھیں۔ تیسری کلاس میں پڑھنے والا ان کا نواسا، مِیسَم روز کی طرح سلام کر کے ممی سے گال ملانے گیا تو انہوں نے جھڑک دیا۔…
سانپوں سے نہ ڈرنے والا بچہ (افسانہ)
عبدالمنان سے وہ میری آخری ملاقات تھی۔ اس کے بعد سے اسے دیکھنے کے لئے آنکھیں ترس گئیں۔ جب بھی دفتر کے کیمپس میں داخل ہوتے ہوئے آدم قد چہار دیواری پر نظر پڑتی تو نگاہوں میں عبدالمنان روشنی کے جھماکے کی طرح نمودار ہوتا۔ اس کا دبلا پتلا جسم۔ دھونکنی کی…