شیلٹر ہوم میں عید منانے والی افسانہ نگار
عید کی آمد آمد تھی، لوگ اپنے اپنے طریقہ سے عید منانے کی تیاریوں میں مصروف تھے، فوٹو جرنلسٹ اور ٹی وی اینکر پرسن ربابہ میرزئی بھی اپنی عید کوریج کے سلسلہ میں شہر سے باہر ایک شیلٹر ہوم یا بوڑھے اور نادار لوگوں کی پناہ گاہ آئی ہوئی تھی۔ اس کا یہ پروگرام عید…
مرغ یا مرغی؟ (فلپینی ادب سے منتخب افسانہ)
میرے بھائی کیکو کے پاس ایک زمانے میں بڑا ہی خاص پرندہ تھا۔ خاص اس لیے کہ کوئی بھی یہ بتانے سے قاصر تھا کہ وہ مرغ ہے یا مرغی۔۔ بھائی کا ماننا تھا کہ یہ مرغ ہے، میرا کہنا تھا کہ یہ مرغی ہے۔ اس مدعے پر ہماری اتنی بحث ہوئی کہ ہم پٹتے…
کن کجھورا (فلپینی ادب سے منتخب افسانہ)
میری بڑی بہن ڈیلیا میرے پالتو کتے کو چھڑی سے مار رہی تھی اور میرا خون کھول رہا تھا۔ مجھے یوں محسوس ہو رہا تھا، جیسے میرے جسم سے ایک وحشی درندہ باہر نکلنے کو بےتاب ہے۔ تیز دھوپ میں وہ کشمشی رنگ کے کپڑوں اور سرخ بالوں کی بدولت کسی بے نیام خنجر کی…
گناہ گار (روسی ادب سے منتخب افسانہ)
ایک حکومتی اہل کار، جس کا نام میگوف تھا، اپنی شام کی سیر کے دوران ایک تار گھر کے قریب رکا اور ایک گہری آہ بھری۔ ایک ہفتہ قبل جب وہ شام کی سیر سے گھر لوٹ رہا تھا تو بالکل اسی جگہ پر اس کی سابقہ نوکرانی اگنیا نے اسے اچانک آ لیا تھا،…
بے نام (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
یہ شہر کی مصروف ترین سڑک تھی۔ آدھا کلو میٹر تک سیدھی چلی جاتی تھی۔ اس کے اختتام پر چوراہا تھا، جس پر سگنل لگا ہوا تھا۔ سڑک کے ایک طرف مصروف بازار تھا اور دوسری طرف ایک نجی اسپتال۔ اسپتال سے متصل ایک ویران سا میدان تھا۔ اسپتال کی دیوار کے ساتھ کسی ٹھیلے…
چڑیا چڑے کی کہانی
قلعۂ احمد نگر 17 مارچ 1943ء صدیق مکرم زندگی میں بہت سی کہانیاں بنائیں۔ خود زندگی ایسی گزری، جیسے ایک کہانی ہو: ہے آج جو سرگزشت اپنی، کل اس کی کہانیاں بنیں گی۔۔ آئیے آج آپ کو چڑیا چڑے کی کہانی سناؤں: دگر ہا شنیدستی، ایں ہم شنو یہاں کمرے جو ہمیں رہنے کو…
فیصلہ (ہندی ادب سے منتخب افسانہ)
ان دنوں ہیرالال اور میں اکثر شام کو گھومنے جایا کرتے تھے۔ شہر کی گلیاں اُلانگھ کر ہم شہر کے باہر کھیتوں کی طرف نکل جاتے تھے۔ ہیرالال کو باتیں کرنے کا شوق تھا اور مجھے اس کی باتیں سننے کا۔ وہ باتیں کرتا تو لگتا جیسے زندگی بول رہی ہے۔ اس کے واقعات اور…
جیل میں ایک چھوٹی سی غلطی
میں 1981 کے موسمِ خزاں اور 1982 کے اوائل میں پابندِ سلاسل کردیا گیا تھا۔ اس جیل میں مقید تھا، جو شاہِ ایران کے دور میں عقوبت کدے کے طور پر استعمال ہوتا تھا۔ خمینی کی اسلامی حکومت نے اس کے در دوبارہ وا کر دیے تھے۔ جہاں میں قید تھا، وہاں بہت سی عورتوں…