قیدی کی وردی (مصری ادب سے منتخب افسانہ)
گاڑی کی آمد کا وقت قریب آیا تو ریلوے اسٹیشن زقازیق پر سب سے پہلے پہنچنے والا شخص حجشہ سگرٹ فروش تھا۔ وہ بجا طور پر ریلوے اسٹیشن کو اپنی چلتی منڈی تصور کرتا تھا اور بے مثال پھرتی کے ساتھ پلیٹ فارم پر گھومتے ہوئے اپنی چھوٹی چھوٹی جہاں دیدہ آنکھوں سے گاہکوں…
دوسری عورت (عربی افسانہ)
طلال نے یونیورسٹی کے آخری سمسٹر تک اپنی کزن کے بارے میں نہیں بتایا اور نہ ہی کبھی یہ عندیہ ظاہر کیا کہ وہ اس کے ساتھ شادی کرے گا۔ یہ بات اس نے اس وقت ظاہر کی، جب ہم نتیجے کا انتظار کر رہے تھے اور اس کے بعد عملی زندگی کی کٹھنائیوں کا…
پہاڑ ہل گیا! (جرمن افسانہ)
”ماں آج میں تمہیں اپنے ساتھ لے کر نہیں جاسکتی۔۔ ماں آج میں تمہیں اپنے ساتھ گاڑی میں لے کر نہیں جا سکتی! ماں! میں آج۔۔۔۔“ مارلینے کا جملہ ادھورا رہ گیا اچانک ہی بیرٹا چلائی ”ہاں! میں نے سن لیا۔۔۔ میں نے سن لیا کہ تم مجھے آج بھی اپنے ساتھ نہیں لے کر…
اگرتم ایک گھوڑے ہوتے۔۔۔ (افسانہ)
”اگر تم ایک گھوڑے ہوتے تو میں گولی مار کر۔۔ تمکارا۔۔ بھیجا۔۔۔ اڑا دیتا۔۔۔“ ایک گھوڑا ہی کیوں؟ کوئی اور جانور کیوں نہیں۔۔کتا، بلی، چوہا یا کوئی بھی دوسرا جانور ہوتا تو گولی اس کی کھوپڑی سے بھی گزر سکتی تھی۔ ہوش سنبھالتے ہی جو پہلی آواز اس کی سماعتوں سے…
ایک مصری علامتی کہانی!
جس سال ملک میں تبدیلی آئی اور لوگوں نے امید کی کہ اب زندگی بہتر ہو جائے گی، انہی دنوں اس گھر کے حالات بگڑ گئے۔ ان کے پاس کھانے کو کچھ نہیں رہا، ماں کی چھاتیاں خشک ہو گئیں اس نے خاندان کے سربراہ سے کہا کہ وہ صورتحال ٹھیک ہونے تک آرام سے…
الٹی شلوار (افسانہ)
“صاب اب میرا کام ہو جائے گا نا۔۔۔“ اس نے دیوار کی طرف رُخ موڑا اور تیزی سے کپڑے پہننے لگی ”ہاں ہاں بھئی۔۔۔“ میری سانسیں ابھی بھی بے ترتیب تھیں ”پھر میں پیسے لینے کب آؤں؟“ دوپٹے سے اس نے منہ پونچھا اور پھر جھٹک کر لپیٹ لیا ”پیسے ملنے تک تمہیں ایک دو…
دُھوپ (ہندی افسانہ)
”اب ہم ساتھ نہیں رہ سکتے“ ریکھا نہیں جانتی تھی کہ یہ الفاظ کیسے اپنے آپ آج نِکل گئے تھے، جو وِشال تک پہنچنے سے پہلے اُس کے ہاتھ میں پکڑے چائے کے کپ پر ٹہر گئے تھے اور چائے کی اُوپری سطح پر تیر رہے تھے۔ چائے کا کپ اور زِیادہ کانپنے لگا۔۔ شاید…
چہرہ در چہرہ (عربی افسانہ)
وہ اس کے سامنے کرسی پر بیٹھی ہوئی تھی۔ اس کے ہاتھ رانوں پر دھرے تھے۔ کرسی کے اوپری حصے نے اس کے آدھے جسم کو گھیرا ہوا تھا۔ وہ بے پردہ تھی۔ اس کے بال چھوٹے اور لباس عمدہ تھا۔ وہ اپنے سامنے پڑی کرسی کو ایسی تیز نظروں سے گھور رہی تھی، جیسے…