سوگوار دن (جرمن ادب سے منتخب افسانہ)
اس کا شوہر قبروں کے کتبے بناتا ہے۔ وہ ایک جوان عورت ہے اور قبرستان میں ہی رہتی ہے۔ وہ زیادہ بات نہیں کرتا لیکن لوگ کہتے ہیں کہ جب سے اس نے اس عورت سے شادی کی ہے، اس کے کاروبار میں بہت تیزی آ گئی ہے۔ جب بھی کسی کا انتقال ہو جائے،…
قرض (امریکی ادب سے منتخب افسانہ)
نانبائی لوئب کے تندور میں سفید روٹیاں ابھی بھوری نہیں ہوئی تھیں، مگر خریدار پہلے ہی اس کی اشتہا انگیز خوشبو سے متاثر ہوکر وہاں چلے آئے تھے۔ لوئب کی دوسری بیوی ’بیسی‘ کاؤنٹر کے پیچھے تیاری میں مصروف تھی۔ اس نے لوگوں کے درمیان ایک اجنبی خستہ حال شخص کو…
قدرت نے لیا بلونت سنگھ سے انتقام (افسانہ)
رات کے آخری پہر دروازے پر دستک ہوئی۔ اپنے بیٹے کا پیٹ پالنے کی خاطر دوسروں کے گھر کام کر کے تھکی ماندی پونم اٹھی اور دروازے کی طرف جاتے ہوئے بولی ”ضرور یہ بلونت ہوگا“ اور دروازہ کھول دیا شراب کے نشے میں دھت بلونت سنگھ دروازہ کھلتے ہی نیچے گر گیا۔ وہ زخمی…
قہوے کی پیالی میں قتل (ایرانی ادب سے منتخب افسانہ)
میں باورچی خانے کی کھڑکی کے پاس نیلوفر کے انتظار میں کھڑی ہوں۔ آٹے اور زعفران کی خوشبو چاروں طرف بکھری ہوئی ہے. آج صبح جاگتے وقت میں نے امی سے کہا: ”رات مجھے بے شمار مردوں کا خواب آیا تھا۔ سب ایک جگہ جمع تھے۔“ امی نے مجھے غصے سے دیکھا اور بولیں…
شاعر (جرمن ادب سے منتخب افسانہ)
یہ کہانی ایک چینی شاعر ہین فُک (Han Fook ) کے بارے میں ہے، جو نوجوانی میں فنِ شاعری میں مہارت حاصل کرنے اور اس سے جڑی ہر چیز کے متعلق سب کچھ جاننے کی شدید خواہش رکھتا تھا۔ ان دنوں وہ زرد دریا Yellow River کے کنارے اپنے آبائی شہر میں رہتا تھا اور…
انتظار (انگریزی افسانہ)
وہ کمرے میں کھڑکیاں بند کرنے کے لیے آیا، جب ہم ابھی بستر میں ہی تھے اور میں نے دیکھا کہ وہ بیمار نظر آ رہا تھا۔ وہ کانپ رہا تھا، اس کا چہرہ سفید پڑ گیا تھا اور وہ آہستہ آہستہ چل رہا تھا، گویا ہر حرکت کے ساتھ اسے درد ہوتا تھا ”شاز،…
خصوصی عدالت (فلسطینی کہانی)
حکومتی اعلان کے مطابق عدالت نے چند مشہور مقدمات کی سماعت کے لیے شہرمیں اجلاس منعقد کیا۔اجلاس میں طے ہوا کہ منتخب دیہات میں عدالتیں لگائی جائیں تاکہ انصاف قائم ہو۔ علاقے کے لوگ اس فیصلے پر حیران تھے۔ انہیں اس بات کی خوشی بھی تھی کہ چلیں ان کے بارے میں بھی…
اعترافِ جرم (مراکشی افسانہ)
میں آپ کو اپنا نام نہیں بتا سکتا۔ نہ ہی وہ دیہات، جہاں اس قصے نے جنم لیا۔۔ کیونکہ وہاں میرے والد ایک عزت دار فرد ہیں، جن سے لوگ خوف زدہ رہتے ہیں۔ میں انہیں شرمسار نہیں کرنا چاہتا۔ وہ اسی زرخیز زمین میں پیدا ہوئے تھے مگر انہوں نے اپنا مستقبل شہر میں…