اعترافِ جرم (مراکشی افسانہ)
میں آپ کو اپنا نام نہیں بتا سکتا۔ نہ ہی وہ دیہات، جہاں اس قصے نے جنم لیا۔۔ کیونکہ وہاں میرے والد ایک عزت دار فرد ہیں، جن سے لوگ خوف زدہ رہتے ہیں۔ میں انہیں شرمسار نہیں کرنا چاہتا۔ وہ اسی زرخیز زمین میں پیدا ہوئے تھے مگر انہوں نے اپنا مستقبل شہر میں…
انیتا
فرنشڈ اپارٹمنٹس کے ایک بڑے بلاک کے سب سے سستے کمرے میں میڈیکل کے تیسرے سال کا طالب علم یعنی کہ اسٹیفین کلچکوف ٹہل ٹہل کر جانفشانی سے ایناٹومی کے بارے میں پڑھ رہا تھا۔ اس جانفشانی کے مارے اس کا حلق خشک ہو رہا تھا اور پسینہ اس کی پیشانی پر چمک رہا تھا…
گونگے سنّاٹے (افسانہ)
یہ ایک سچّی کہانی ہے مگر میری گزارش ہے کہ ان کرداروں کو آپ ڈھونڈنے نہیں نکلنا کیونکہ اب وہ وہاں پر نہیں رہتے ہیں۔ نہ جانے ٹرانسفر ہو کر کہاں چلے گئے۔ منوہر کھرے کام تو کسی اور سنٹرل دفتر میں کرتا تھا، مگر عبوری طور پر رہتا تھا کسی اور محکمے کے گیسٹ…
آخری بوند (افسانہ)
مراد بغیر بستر کے ڈھیلی ڈھالی چارپائی پر بازو کو تکیہ بنائے سونے کی ناکام کوشش میں کروٹوں پہ کروٹیں بدل رہا تھا۔ وہ نیندکو جتنا اپنی آنکھوں کے قریب لانے کی کوشش کرتا، وہ اتنا ہی دور بھاگتی۔ یوں لگ رہا تھا جیسے آج وہ نیوٹن کا تیسرا قانون ثابت کرنے پر تُلی…
اجنبی (افسانہ)
آج کی شام ہر دوسری شام کی طرح ہی تھی اور میرا بیک یارڈ بھی ڈھلتے سورج کی سرخی میں ہر روز کی طرح ہرا بھرا نظر آ رہا تھا۔ مگر آج ہوا کے ہر جھونکے میں ایک پرانی مستی کا احساس تھا۔ آج بہت عرصہ بعد میں خود کو زندہ محسوس کر رہا تھا۔…
محبت اور طاعون
رات کے آخری پہر کھڑکھڑاہٹ بڑھنے لگی، یوں لگا جیسے کوئی بہت بڑی قوت سب کچھ تخت و تاراج کرنے کے درپے ہے۔ شہربانو بستر پر مزید دُبک گئی۔ وہ بہت دیر سے ایسی آوازیں سن رہی تھی، جو اس سے قبل اس نے نہیں سنی تھیں۔ سماعت کو یکسو کرنے کے بعد اسے اندازہ…
لکڑہارا (افسانہ)
پیر پنجال کے کوہساروں سے نکلنے والا دریائے جہلم جمو ں سے ہوتا ہوا جھنگ میں تریموں کے مقام پر دریائے چناب میں شامل ہو جاتا ہے اور یہاں سے ملتان کی جانب صرف دریائے چناب ہی بہتا چلا جاتا ہے۔ تریموں کے جنوب میں دریائے جہلم کا کہیں اتا پتا نہیں ملتا۔ تریموں…