خوف، مزاحمت اور دیواروں میں قید گواہی
کل شام، اپنے گاؤں کے درختوں کے سائے میں اور فصلوں کے درمیان چلتے ہوئے، جب اچانک ایک اژدھے پر نظر پڑی، جسے ہم بھیڑیا ٹاؤن کہتے ہیں، تو ایک لمحے کو خوف سے آنکھیں بند ہو گئیں۔ یہی گاؤں، میری جنم بھومی، جس کے آنگن میں کبھی طرح طرح کے درختوں کی چھاؤں ہوا…
ندی اور بوڑھا (سنہالی ادب سے منتخب افسانہ)
پچھلے دس یا اس سے بھی کچھ زیادہ سالوں سے، ہر دن بوڑھا زیادہ تر وقت ندی کے کنارے بیٹھا رہتا۔ اُس کی عمر بیاسی برس تھی اور اب اُس نے کام کاج چھوڑ دیا تھا۔ ندی، بالکل اُس کے گھر کے سامنے تھی اور کچھ صدیاں پُرانی تھی۔ اُس کی ساری زندگی اسی ندی…
واپسی (افسانہ)
مہران کئی برسوں بعد لندن سے ماسٹرز کی ڈگری لے کر وطن واپس آ رہا تھا۔ جہاز کی کھڑکی سے باہر پھیلے بادلوں کے اُس پار وہ بار بار اپنے گاؤں کی مٹی، کھیت، اور بچپن کی یادوں کو محسوس کر رہا تھا۔ اُس کے ذہن کے پردے پر وہی کچے راستے، وہی مٹی کی…
تھر: اپنے دلوں کے دروازے کھلے رکھنے والے وہ لوگ، جو پانی کے کنوؤں پر تالے لگانے پر مجبور ہیں!
تھر کے لوگ، جن کی اپنی زندگی سختیوں سے گندھی ہوتی ہے، مہمان کے لیے نرمی اور مٹھاس کا ایک الگ خزانہ رکھتے ہیں۔ اگر کوئی مسافر پیاسا آئے، تو چاہے گھر میں پانی کا آخری گھونٹ ہی کیوں نہ ہو، وہ پہلے مہمان کے لیے رکھا جائے گا۔ یہاں کے لوگ اپنے روایتی چادر،…
کونپل (افسانہ)
سگیاں کے پنڈت جے رام کی لڑکی سینکری کے دل میں بچپن ہی سے جس چیز کی زبردست خواہش پیدا ہو گئی تھی، وہ سونے کے زیور تھے اور ان میں بھی طلائی کنگنوں پر تو جیسے اس کا دم نکلتا تھا۔ سگیاں کی بےچاری غریب دیہاتنیں تو چاندی کی بالیوں، چوڑیوں، کڑوں، کنٹھوں،…