ایک مصری علامتی کہانی!
جس سال ملک میں تبدیلی آئی اور لوگوں نے امید کی کہ اب زندگی بہتر ہو جائے گی، انہی دنوں اس گھر کے حالات بگڑ گئے۔ ان کے پاس کھانے کو کچھ نہیں رہا، ماں کی چھاتیاں خشک ہو گئیں اس نے خاندان کے سربراہ سے کہا کہ وہ صورتحال ٹھیک ہونے تک آرام سے…
م سے مرد (افسانہ)
”ف سے فوارہ، ق سے قلم، ل سے لٹو، م سے مرد۔۔۔“ بانو کی نظریں قاعدے میں بنے مرد کے اوپر ٹک گئیں۔۔ سوٹ پہنے، ٹائی لگائے، سلیقے سے جمے ہوئے بال بنائے، م سے مرد۔۔۔۔ اس کی زبان بار بار ’م سے مرد‘ کی گردان کرتی رہی۔ ”بانو بیٹا، آگے سبق یاد نہیں ہے؟“…
آخری بوند (افسانہ)
مراد بغیر بستر کے ڈھیلی ڈھالی چارپائی پر بازو کو تکیہ بنائے سونے کی ناکام کوشش میں کروٹوں پہ کروٹیں بدل رہا تھا۔ وہ نیندکو جتنا اپنی آنکھوں کے قریب لانے کی کوشش کرتا، وہ اتنا ہی دور بھاگتی۔ یوں لگ رہا تھا جیسے آج وہ نیوٹن کا تیسرا قانون ثابت کرنے پر تُلی…