انگریزوں نے سندھ تہذیب کی دریافت میں سو سال کیوں لگا دیے؟
سندھ تہذیب کو دریافت ہوئے ایک صدی تو ہو چکی ہے لیکن حیرت کی بات ہے کہ پاکستان اور انڈیا دونوں نے 2024 کو اس نسبت سے نہیں منایا۔ انڈیا، جس کا نام ہی انڈس تہذیب سے مستعار لیا گیا تھا، اسے بھی اپنی تاریخ سے غرض ہے نہ ہی پاکستان کو، جہاں سندھ تہذیب…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط68)
1922ء میں ’انڈین آرکیالوجی سروے‘ کے ماہر سر جان مارشل نے موئن جو دڑو کی باقیات دریافت کیں۔مُردوں کا یہ ٹیلہ اور ماضی کا اجڑا شہر اب یونیسکو کی ورلڈ ہیریٹیج میں شامل ہے۔ اس کی دریافت کو 100 برس مکمل ہو چکے ہیں اور اب تک موجودہ سائیٹ کے ساڑھے پانچ (550)…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط26)
بہار کا موسم ہے اور اس کے رنگ درختوں اور ماحول پر بھی بکھرے ہیں۔ یہ پھل چننے کے دن ہیں۔ میں آبشار کے قریب جا بیٹھا ہوں۔ بہتے پانی کی جھاگ سے اٹھنے والے پانی کے قطرے میرے چہرے کو بھگو رہے ہیں۔ آبشار کا پانی نیچے تالاب کی صورت جمع ہو کر موجیں…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط23)
سندھو بولتے چلا جا رہا ہے؛ ”اولڈنگ سے یہاں تک دریائے شیوک، شگر، کئی ندی، نالے اور چشمے مجھ میں مل کر اپنا وجود کھو چکے ہیں۔ آگے بھی دیکھنا میں کن کن اور کیسے کیسے ندی نالوں کو نگلتا ہوں۔ میرا وجود کافی بھرپور ہو چکا ہے۔ اب میں اپنا غصہ نکالنے اور سیلاب…
سندھو سلطنت: دریائے سندھ کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط 7)
”وہ شخص جو برہما پتر اور میرے منبع دریافت کرنے کا پختہ عزم لے کر یہاں آیا سویڈش سیاح ’سیون ہیڈن‘ تھا جو 1907 ء میں مانسرور پہنچا۔ وہ لکھتا ہے؛ ’جھیل مانسرور کی سطح گنبد کی طرح ہے جس کی سنہری ریت پر ایک بڑا درخت اگا ہے جس پرسادھوؤں کے بے شمار سنہرے…