سندھو سلطنت: دریائے سندھ کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط 8)
”میرے دوست؛ قدیم دور میں میرے اس بالائی خطے میں پل (برج) نہ تھے۔ مسافر، مقامی لوگ اور جانور تیر کر یا پیدل ہی مجھے عبور کرتے تھے۔ پھسلتے پتھروں اور تند و تیز لہروں میں مجھے پار کرنا جان جوکھوں کا کام تھا۔ خچر، یاک اور ٹٹو طاقت ور تیراک ہیں۔ آدمی ان کی…
سندھو سلطنت: دریائے سندھ کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط 7)
”وہ شخص جو برہما پتر اور میرے منبع دریافت کرنے کا پختہ عزم لے کر یہاں آیا سویڈش سیاح ’سیون ہیڈن‘ تھا جو 1907 ء میں مانسرور پہنچا۔ وہ لکھتا ہے؛ ’جھیل مانسرور کی سطح گنبد کی طرح ہے جس کی سنہری ریت پر ایک بڑا درخت اگا ہے جس پرسادھوؤں کے بے شمار سنہرے…
سندھو سلطنت: دریائے سندھ کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط: 4)
میں (سندھو) کون ہوں؟ ”میں یہاں سنگی کھابب پر کھڑا دریائے سندھ کو زمین کی آغوش سے جنم لیتے دیکھ رہا ہوں۔“ سیون ہیڈن دنیا میں بے شمار دریا ہیں نامور، منہ زور اور تاریخی۔۔ دریائے نیل کا ذکر اگر قرآن پاک میں ہے تو بہت سے دریاﺅں کا تذکرہ ہندوﺅں کی مقدس کتب…
سندھو سلطنت: دریائے سندھ کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط: 2)
میرے ہمسفر وہی پرانے اور آپ کے شناسا ہیں ماسوائے لالہ اعجاز کے کہ وہ جولائی 2016ء میں اس دار فانی سے اپنے ابدی گھر جا چکے ہیں۔ چوہدری ریاض احمد، ملک مشتاق ساتھ ہیں، جبکہ لالہ اعجاز کی یادیں۔ کچھ نئے ہمسفر بھی ہیں جیسے میرے پھوپھی زاد بھائی قیس مظہر حسین۔…
سندھو سلطنت: دریائے سندھ کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط: 1)
شہزاد حمید پیشہ ور لکھاری نہ ہونے کے باوجود لاتعداد پیشہ ور لکھنے والوں سے کہیں بڑھ کر ہے کیونکہ اس کی تحریروں میں اس کی شخصیت کا عکس بہت نمایاں ہے جو شرافت، نجابت، متانت، محنت اور صداقت کا نایاب کومبینیشن ہے اس کی یہ زیر نظر کتاب کسی شہکار سے کم نہیں کہ…
بُک ریویو: ’سندھو گھاٹی اور سمندر‘
’سندھو گھاٹی اور سمندر‘، ابوبکر شیخ کی تیسری کتاب ہے۔ مصنف کا تعلق زیریں سندھ کے ضلع بدین سے ہے اور وہ تقریباً 3 دہائیوں سے ماحولیاتی تحفظ اور ماہی گیروں کے حقوق کے حوالے سے متعدد بار قلم اٹھا چکے ہیں یہی وجہ ہے کہ ابوبکر شیخ کی گزشتہ دو کتابوں، ’نگری…