کہانی کار کی کہانی، کہانی کی زبانی (افسانہ)
میں کہانی ہوں۔ میں نے کتنی ہی زندگیاں تراشی ہیں، کتنے ہی خواب بُنے ہیں، کتنی ہی تقدیریں سنواری ہیں۔ میری سطروں میں محبت کے چراغ جلے، غموں کے سائے دراز ہوئے، اور بغاوت کی صدائیں گونجیں۔ میں نے ظالموں کو گرایا، مظلوموں کو اٹھایا، وقت کو پلٹا، زمین کو آسمان…
امن کا طالب (افسانہ)
(اونچے اونچے محلوں کی دلفریبی میں بدامنی کو مت ڈھونڈ! ان تنگ و تاریک گلیوں میں جا، جنہیں بھوک، اور مفلوک الحالی نے اپنا مسکن بنا رکھا ہے۔) سیاہ لبادے والا، بات بات کی آہٹ لیتا ہوا شہر کی گلیوں میں گھوم رہا تھا۔ اجین کے اونچے مکان آدھی رات کے سناٹے میں…
کہاوتیں اور دانش پارے
میرے قارئین جانتے ہیں کہ میں گاہے گاہے لوک دانش کی نمایندہ کچھ کہاوتیں اور دنیا بھر کے اہلِ فکر ونظر کے کچھ دانش پارے چھوٹی چھوٹی نظموں میں ڈھال کر اُن سے شیئر کرتا رہتا ہوں سو آج بھی اسی روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے اس ضمن میں کی گئی کچھ نئی طبع آزمائیاں…