یہاں غربت کے کفن پر ترقی کا اشتہار چَھپتا ہے۔۔
بچپن میں ہم ایک کھیل کھیلتے تھے، جس میں ایک اور پھر دوسرے ہاتھ کا انگوٹھا، جو اس وقت ابھی محض ٹھینگا ہی ہوا کرتا تھا، کسی کو دکھا کر ترنم سے کہتے تھے، ”اسے کھا لو، اسے رکھ لو۔۔“ آج یہی کھیل ہمارے ساتھ حکمراں اشرافیہ، ایلیٹ کلاس کھیل رہی ہے جو اعداد و…
بڑھتی ہوئی عدم مساوات کی تصویر بنا ایشیا امیروں کا نیا کھیل کا میدان بن گیا
دنیا کے نقشے پر ایشیا آج صرف آبادی یا معیشت کا استعارہ نہیں بلکہ تضاد کی ایک زندہ تصویر ہے، جہاں فلک بوس عمارتوں کے سائے میں جھونپڑیاں سکڑتی جا رہی ہیں اور ڈیجیٹل اسکرینوں کی چمک میں لاکھوں چہرے اندھیرے میں گم ہو رہے ہیں۔ یہ وہ خطہ ہے جو بظاہر ترقی کے…
ڈاچی (افسانہ)
پی سکندر کے مسلمان جاٹ باقر کو اپنے مال کی طرف حریصانہ نگاہوں سے تاکتے دیکھ کر او کانہہ کے گھنے درخت سے پیٹھ لگائے، نیم غنودگی کی سی حالت میں بیٹھا چودھری نندو اپنی اونچی گھر گھراتی آواز میں للکار اٹھا۔۔۔ ’’رے رے اِٹھے کے کرے ہے؟‘‘ (ارے یہاں کیا کر رہا…