کٹھ پتلی (ایرانی ادب سے منتخب افسانہ)
مرد کمرے میں داخل ہوا اور دروازے کے پاس آ کر کھڑا ہو گیا: ”تم ابھی تک تیار نہیں ہوئیں؟“ عورت نے پہلے اپنے بال سر کے اوپر جمع کیے، پھر انہیں اپنے شانوں پر گرا دیا اور آئینے میں اپنا چہرہ دیکھنے لگی۔ اس نے پاؤڈر کا ڈبہ اٹھایا اور اپنا مخصوص پاؤڈر چہرے…
ہوشیار بُڑھیا (امریکی ادب سے منتخب افسانہ)
کام شروع کرنے سے پہلے اس نے اپنے تینوں ساتھیوں کو ڈنر پر بلایا۔ الزامور خوب اچھی طرح جانتا تھا کہ ساتھیوں کو خوش کیے بغیر ان سے کام لینا کس قدر مشکل ہے۔ ”دوستو!“ اس نے اپنا جام اٹھایا، ”ہم لوگوں نے اپنے پلان کا ہر زاویے سے جائزہ لیا ہے، کہیں جھول نہیں…
تیسرا کنارا (برازیلی ادب سے منتخب افسانہ)
میرے والد ذمہ دار، منظم اور ہر کام سلیقے سے کرنے کے عادی تھے۔ اس بات کی تصدیق گرد و نواح کے کئی قابلِ اعتماد اشخاص نے کی کہ وہ بچپن ہی سے ان خصوصیات کے حامل تھے۔ جہاں تک میری یادداشت کام کرتی ہے، وہ نہ زیادہ ہنس مکھ تھے نہ بہت زیادہ رنجیدہ،…
کیا آپ ڈاکٹر ہیں؟ (آمریکی ادب سے منتخب افسانہ)
فون بجنا شروع ہوا تو وہ تیزی سے، چپل، پاجامہ اور گاؤن میں ہی اسٹڈی روم سے باہر نکل آیا۔ دس بج چکے تھے، اس لیے کال اس کی بیوی کی ہی ہو سکتی تھی۔ جب وہ ٹاؤن سے کہیں باہر جاتی تھی، اسی طرح، ہر رات شراب پینے کے بعد فون کرتی تھی۔ وہ…
مانگ (سندھی ادب سے منتخب افسانہ)
سرکاری ہسپتال کھپرو کے مردہ خانے کے سامنے لوگوں کا جمگھٹا، دھول مٹی میں لت پت بال، چوٹی اور مانگ بھی، دھول اور ہوا میں اڑ رہے تھے۔ اندر خاکروب، ڈاکٹر، مکھیوں کی بھن بھن۔ سندھ جنی، کسی کی لاج سب کا ناموس، کئی اجنبیوں کے سامنے اس کی لاش ننگی پڑی تھی۔ ٹیڑھے…
گدا (ایرانی ادب سے منتخب افسانہ)
صحرا۔ بیچوں بیچ میں ایک کنواں، جس کے گرد کانٹوں دار تار کی باڑھ کھنچی ہوئی ہے۔ باڑھ کے سلاخچے کے پاس ایک بڑا سا ڈول رکھا ہوا ہے۔ ڈول پر موٹی رسی لپٹی ہوئی ہے۔ مسافر، تھکا ہارا اور ننگے پاؤں، پتلون قمیص پہنے، پسینے میں تربتر، اسٹیج پر آتا ہے۔ بہت پیاسا…
سوگوار دن (جرمن ادب سے منتخب افسانہ)
اس کا شوہر قبروں کے کتبے بناتا ہے۔ وہ ایک جوان عورت ہے اور قبرستان میں ہی رہتی ہے۔ وہ زیادہ بات نہیں کرتا لیکن لوگ کہتے ہیں کہ جب سے اس نے اس عورت سے شادی کی ہے، اس کے کاروبار میں بہت تیزی آ گئی ہے۔ جب بھی کسی کا انتقال ہو جائے،…
لاٹری ٹکٹ (روسی ادب سے منتخب افسانہ)
ایوان دمتریچ ایک مڈل کلاس آدمی تھا۔ اپنے خاندان کے ساتھ رہتا تھا۔ کُل بارہ سو سالانہ آمدنی تھی، جس پر وہ صابر و شاکر تھا۔ شام کا ہلکا پھلکا کھانا کھانے کے بعد صوفے پر اخبار پڑھنے بیٹھ گیا۔ ”میں تو آج صبح اخبار پڑھنا بھول ہی گئی۔“ اس کی بیوی نے اسے میز…