ہماری زندگی ڈاکٹر صدیق کے فارمولے پر چل رہی ہے
یوں لگنے لگا ہے کہ زندگی روزمرہ اور پیشہ ورانہ مصروفیات، اطلاعات، واقعات، سوچ، محسوسات سب ہی کچھ ایک آہنی دائرے میں گڈمڈ ہو کے رہ گیا ہے اب تو اندازے بھی لگانے نہیں پڑتے۔ معلوم ہے کہ کس شخص کے کس بیان کا بنیادی مفہوم کیا ہے، کس فیصلے کے پیچھے کون سا عامل…
دلبر چچا کا چانپڑ
یہ نصف صدی پہلے کا مضمون ہے جو نصف صدی بعد باندھا جا رہا ہے۔ تب کلو نے سیر کو بے گھر نہیں کیا تھا۔ تب بھینس کا گوشت کوئی نہیں کھاتا تھا۔ ہوتا ہوگا بیف اور مٹن بھی کہیں نہ کہیں۔۔۔ پر ہمارے ہاں بڑے کا مطلب گائے یا بچھیا کا گوشت اور بکرے…
ایک بکاؤ صحافی کی پکاؤ باتیں
گزشتہ سے پیوستہ ہفتے بنگلہ دیشی وزیرِ اعظم شیخ حسینہ واجد نے دریاِ پدما پر سوا چھ کلومیٹر طویل پل کا افتتاح کیا۔ یہ پل دارالحکومت ڈھاکہ کو کھلنا سمیت بنگلہ دیش کے جنوب مغربی پسماندہ علاقوں سے جوڑے گا۔ یہ پل ایک چینی کمپنی نے لگ بھگ ڈیڑھ ہزار بنگلہ دیشی…
حیاتِ مقصود چپراسی (ایک مطالعہ)
کہا جاتا ہے کہ ملک مقصود احمد 1973ع کے کسی ایک دن لاہور میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم بھی یقیناً حاصل کی ہوگی تب ہی تو بلوغت کے بعد آپ رمضان شوگر مل میں بطور نائب قاصد بھرتی ہوئے۔ آپ کی بنیادی ذمہ داریوں میں چائے بنانا اور سلیقے سے پیش کرنا بھی شامل رہا…
سب چاہیے کچھ بھی کیے بغیر
جو عام آدمی چالیس گز کا مکان ہڑپنے کے چکر میں سگی بہن اور بھائی کو عدالت میں گھسیٹ لیتا ہے، کھیت پر قبضے کی جعلی فرد بنوانے اور اس پر بضد ہونے سے نہیں چُوکتا ، قاتل بیٹے کو بچانے کے لیے جعلی برتھ سرٹیفکیٹ کے حصول کے لیے ہر بااثر کے قدموں میں…