کیا یہ بچے گلدستے پیش کریں گے؟
دو جنوری کو بیروت میں اسرائیلی فضائیہ کے ایک میزائلی شب خون میں حماس کے ایک کلیدی رہنما صالح ال اروری کی شہادت نہ تو پہلی ہے اور نہ ہی آخری۔ حماس ہو یا کوئی بھی دوسری سرکردہ فلسطینی تنظیم، ایک کمانڈر یا رہنما کے منظر سے ہٹ جانے پر چند دن کا نفسیاتی…
الیکشن ہو رہے ہیں یا منہ پے مارے جا رہے ہیں؟
سپریم کورٹ کو الیکشن کی تاریخ مقرر کرنے کے لیے پہلے تو متعلقہ اداروں کے سر آپس میں ٹکرانے پڑے۔ جب عدالتِ عظمیٰ کے بے حد اصرار پر آٹھ فروری کی تاریخ کا اعلان ہو گیا تب بھی آنا کانی ہیرا پھیری کی کوشش جاری رہی اور معزز عدالت کو ایک بار پھر آٹھ تاریخ…
وسعت اللہ خان کا تفصیلی انٹرویو۔ (قسط2)
س: آپ نے والد محترم کا ذکر کیا کہ انہوں نے آپ کو کتابیں فراہم کیں، جس سے آپ کا پڑھنے کا ذوق بڑھا۔ والدہ کا آپ کی شخصیت سازی میں کیا کردار رہا۔ آپ کا ایک کالم بھی ’’ماں‘‘ کے حوالے سے بہت مقبول ہوا تھا، جسے اس موضوع پر معرکۃ الآرا تحریر قرار…
وسعت اللہ خان کا تفصیلی انٹرویو۔ (قسط 1)
نامور کالم نویس، منفرد تجزیہ کار، صحافی و دانش ور اور مقبول اینکر پرسن وسعت اللہ خان کی شخصیت کا احاطہ اگر مختصر ترین الفاظ میں کیا جائے تو وہ جملہ ہوگا ’’اپنی شرائط پر زیست کرنے والا انسان۔‘‘ رحیم یار خان کے ایک متوسط گھرانے میں جنم لینے والا خداداد…
وعدوں کی ہانڈی میں دلاسے کی ڈوئی
ماضی کے بارے میں تو ہم سب جانتے ہیں کہ درخشاں ہی ہوتا ہے۔۔ بالکل اس شخص کی طرح، جو بھلے زندگی میں کیسا ہی کمینا ہو، مرنے کے بعد اس میں خوبیاں ہی ڈھونڈی جاتی ہیں۔ کوئی بھی حکومت ہو، اس لحاظ سے اچھی ہی ہوتی ہے کہ وہ حال سے بے حال لوگوں…
کیا خودکشی قابلِ علاج ہے؟
وہ جو کہتے ہیں کہ خودکشی کرنے والا تو ’مکتی‘ پا جاتا ہے مگر ساتھ کے کئی لوگ معاشی و سماجی طور پر زندہ درگور ہو جاتے ہیں۔ خود کشی سوچ سمجھ کے بھی کی جاتی ہے، البتہ زیادہ تر لوگ کسی کمزور لمحے میں آناً فاناً فیصلہ کر کے اپنی جان لے لیتے ہیں۔…
آنکھیں اور کتنی پھٹیں گی؟
پاکستان میں اس وقت ضرورت سے زائد بجلی پیدا ہو رہی ہے اور ساتھ ہی دیگر کے علاوہ بجلی کا بحران بھی جاری ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ جلد آنے والی سرمایہ کاری سے سب مسئلے ٹھیک ہو جائیں گے اور سب کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی۔ کیا عجب انتظام ہے…
برکس اتحاد عالمی معیشت کے لیے کتنا مفید؟
جب دوسری عالمی جنگ کے خاتمے کے بعد امریکا اور سوویت یونین کے مابین چھڑنے والی سرد جنگ میں دونوں بڑی طاقتیں چھوٹے ممالک کو اپنے اپنے کیمپ میں لانے کے لیے طرح طرح سے رجھا رہی تھیں تو اس دباؤ سے تنگ آ کے انیس سو پچپن میں سوئیکارنو کی دعوت پر تیسری دنیا…