پی ٹی آئی سے میرا اعلانِ لاتعلقی
میں وسعت اللہ خان نو مئی کے وحشت ناک واقعات کی پُرزور مذمت کرتا ہوں۔ جو جو بھی ملوث ہے، اسے بلاامتیازِ طبقہ و جنس عبرت ناک سزا ملنی چاہیے تاکہ کسی کو مستقبل میں ایسے واقعات دہرانے کی جرأت نہ ہو حکومتِ وقت اور پاکستان کے سکیورٹی اداروں کی بیدار مغز بہادر…
ہجوم کے نڈر ہونے کا وقت ہوا چاہتا ہے
کھلونوں کی دوکانوں! راستہ دو، میرے بچے گذرنا چاہتے ہیں۔۔ (نامعلوم) عاصم بارہ برس کا ہے۔ لاہور میں گلبرگ کے کاروباری علاقے میں پھیری لگاتا ہے۔ صبح دس بجے سے شام سات بجے تک وہ تمام مارکیٹوں کے اندر اور باہر گھومتا گھماتا چھوٹی موٹی چیزیں بیچ کے پانچ سے چھ…
جب روبوٹ ہاتھ سے نکل جائے؟
جس طرح سولہ دسمبر دو ہزار چودہ کے پشاور آرمی پبلک اسکول سانحے میں ڈیڑھ سو بچوں اور اساتذہ کی موت نے سولہ دسمبر انیس سو اکہتر کے سقوطِ ڈھاکہ کی تکلیف دہ یاد سے جان چھڑا دی اسی طرح نو مئی کو جی ایچ کیو پنڈی اور کور کمانڈر لاہور کی رہائش گاہ سمیت…
آج میں کس کی حمایت کروں؟
یا توان لوگوں کو ادراک نہیں کہ ہم کھائی میں گر چکے ہیں اور اپنا وزن اٹھانے کے لیے کرین اور اس کے کرائے کا انتظام بھی ہمیں خود ہی کرنا ہے۔ پھر گمان ہوتا ہے کہ جو ریاست اپنے ہی چڑیا گھر میں ایک ہاتھی (نور جہاں) کو ہی خشک تالاب سے اٹھا کے…
پاکستانی سیاست، دودھ پر بلیوں کی لڑائی
بچپن سے مثال سنتے آ رہے ہیں ’من حرامی تے حجتاں ڈھیر‘ یعنی دل بے ایمان ہو تو کچھ نہ کرنے کے سو بہانے۔۔آئین کو سو سلام مگر جب دل چاہے گا تب عمل ہوگا، کبھی کلی تو کبھی جزوی عمل ہوگا۔۔ نہیں دل چاہے گا تو آئین کی کمر پے ایک سو ایک تاویلات…
اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارنے کا اصل مطلب
کل (بائیس مارچ) جنگلات کے تحفظ کا عالمی دن ہے۔ یہ دن دو ہزار بارہ سے منایا جاتا ہے اور اس کا مقصد یہ آگہی دینا ہے کہ اگر انسان اس کرہِ ارض سے ختم ہو بھی جائیں تو زمین کو کوئی فرق نہیں پڑے گا،لیکن جنگلات ختم ہو جائیں تو کچھ بھی نہیں بچے…
جانِ من کہاں جا رہی ہو مجھے ڈسے بغیر؟
اس سے پہلے کہ پاکستانی حکومت 30 جنوری کے پشاور خود کش دھماکے کے ڈانڈے کابل سے ملاتی، افغان وزیرِ خارجہ امیر خان متقی نے پشتو کا ایک محاورہ داغ دیا ’پاکستان اپنی چھت پر پڑی برف خود صاف کرے، ہماری چھت پر نہ پھینکے۔‘ اس بیان کے بعد پاکستانی دفترِ خارجہ نے…
حکومت کوئی بھی ہو، غیر محفوظ ہی ہوتی ہے!
مغربی بنگال والے کہتے ہیں کہ جو بنگال آج سوچ رہا ہے، وہ باقی بھارت کل سوچے گا۔اگر میں اس بات کو جنوبی ایشیا کی سطح پر جا کے دیکھوں تو بات کچھ یوں بنے گی کہ جو پاکستان کل کر چکا، وہ بھارت آج کر رہا ہے۔ مثلاً ہم نے پچھلے پچھتر برس میں…