لاہوری دوستوں کو اپنی ہیرامنڈی کا تشخص ’مسخ‘ ہونے کا قلق
آپ بھلے اتفاق کریں کہ اختلاف، راج کپور کے بعد اِس وقت پدم شری سنجے لیلا بھنسالی ہندی فلم انڈسٹری کا سب سے نمایاں شو مین ہے۔ ہر شے کو مبالغہ آرائی کی حد تک گرینڈ اسکیل پر بنانا اِس کا شوق اور شناخت ہے۔ اس کی پہلی اور آخری ترجیح یہ ہے کہ پردے…
الیکشن ہو رہے ہیں یا منہ پے مارے جا رہے ہیں؟
سپریم کورٹ کو الیکشن کی تاریخ مقرر کرنے کے لیے پہلے تو متعلقہ اداروں کے سر آپس میں ٹکرانے پڑے۔ جب عدالتِ عظمیٰ کے بے حد اصرار پر آٹھ فروری کی تاریخ کا اعلان ہو گیا تب بھی آنا کانی ہیرا پھیری کی کوشش جاری رہی اور معزز عدالت کو ایک بار پھر آٹھ تاریخ…
وسعت اللہ خان کا تفصیلی انٹرویو۔ (قسط 3)
س: کالج میں کیسے اساتذہ ملے؟ ماحول کیسا تھا؟ ج: کالج میں بھی بہت اچھے اساتذہ ملے۔ حوصلہ افزائی کرنے والے۔ تقریری مقابلے کے لیے اور دیگر مختلف غیر نصابی سرگرمیوں کے لیے طلبہ کو groom کرتے تھے۔ ہفتہِ طلبہ، بزمِ ادب، بین الاضلاعی مقابلے وغیرہ عام ہوتے تھے…
کیا خودکشی قابلِ علاج ہے؟
وہ جو کہتے ہیں کہ خودکشی کرنے والا تو ’مکتی‘ پا جاتا ہے مگر ساتھ کے کئی لوگ معاشی و سماجی طور پر زندہ درگور ہو جاتے ہیں۔ خود کشی سوچ سمجھ کے بھی کی جاتی ہے، البتہ زیادہ تر لوگ کسی کمزور لمحے میں آناً فاناً فیصلہ کر کے اپنی جان لے لیتے ہیں۔…
روٹھے ہو تم، تم کو کیسے مناؤں پیا!
یہ ریاست ایک لمیٹڈ کمپنی ہے۔ اس کا بورڈ آف ڈائریکٹرز ہے۔ وہی کسی کو بھی چیف ایگزیکٹو مقرر کرنے یا ہٹانے کا مجاز ہے۔ اس چیف ایگزیکٹو کی باقاعدہ تنخواہ، مراعات و اختیارات طے ہیں۔ انسان چاہے تو ناشکرے پن کی کوئی انتہا نہیں۔ شکر گزار ہونا چاہے تو آس پاس…
ایک ماحول دوست سواری کا قصیدہ
آج (تین جون) عالمی یومِ بائسکل ہے۔ اس دن کا مقصد اس واحد سواری کی اہمیت اجاگر کرنا ہے، جو انسان کی جسمانی قوت سے رواں رہتی ہے ، یہ ماحولیات دوست سواری نہ پٹرول پیتی ہے ، نہ دھواں چھوڑتی ہے ایجاد کردہ سواریوں میں سب سے سستی ہے جس کی رفتار پیدل رفتار…
عمرانی جن اور ٹوٹی ہوئی بوتل
اس طرح کی نعرے بازی یا گھیراؤ جلاؤ کوئی پہلی بار تھوڑی ہوا ہے۔ انیس سو اڑسٹھ میں بھی تو یہی ہوا تھا، جب دس سالہ سیاسی گھٹن کے مارے لوگوں کے سلگتےجذبات پر دس سالہ جشنِ ترقی نے نمک پاشی کا کام کیا اور ڈھاکہ تا پنڈی اور پنڈی تا کراچی پہلی بار بدتمیز…
پاکستانی سیاست، دودھ پر بلیوں کی لڑائی
بچپن سے مثال سنتے آ رہے ہیں ’من حرامی تے حجتاں ڈھیر‘ یعنی دل بے ایمان ہو تو کچھ نہ کرنے کے سو بہانے۔۔آئین کو سو سلام مگر جب دل چاہے گا تب عمل ہوگا، کبھی کلی تو کبھی جزوی عمل ہوگا۔۔ نہیں دل چاہے گا تو آئین کی کمر پے ایک سو ایک تاویلات…