یہ کیا ہوا، کیسے ہوا، کب ہوا؟
گزرے جمعہ کو دو بڑے واقعات ہوئے۔ پہلا یہ کہ دوسری بڑی عالمی سپرپاور کی پیپلز کانگریس نے صفر کے مقابلے میں دو ہزار نو سو بانوے ووٹوں سے شی جن پنگ کو تیسری مدت کے لیے صدر منتخب کر لیا۔ گویا کم از کم اگلے پانچ برس بھی چین اسی داخلی و خارجہ ٹریک…
بلوچستان کی تکلیف معاشی نہیں، سیاسی ہے
گذشتہ تین دہائیوں میں بلوچستان کی سیاسی، سماجی و اقتصادی محرومی کے خاتمے کے نام پر جتنے میگا پیکیجز کا اعلان ہوا اگر ان میں سے پچاس فیصد پر بھی عمل ہو جاتا تو آج بلوچستان بھی صوبہ پنجاب اور سندھ نہیں تو خیبر پختون خواہ کے ہم پلہ ضرور ہو جاتا پرویز مشرف…
کیا ہماری قسمت میں یہی لوگ بچے ہیں؟
اس خطے کے عوام کو بس دو بار اپنے اظہار کا حقیقی موقع ملا۔ پہلی بار 1947 میں، جب اُن سے پوچھا گیا کہ نیا ملک چاہیے یا نہیں۔ انھوں نے کہا کیوں؟ جواب ملا تاکہ تم استحصال سے پاک ایک پُرامن آزاد زندگی بسر کر سکو۔لوگوں نے کہا ٹھیک ہے، یہ بات ہے تو…
بھاگتے رہنا، ہمارے بھروسے نہ رہنا
پچھتر برس پہلے لاکھوں لوگ اپنی مٹی، گھر بار اور یادیں چھوڑ کے پاکستان آ رہے تھے۔آج انہی لاکھوں لوگوں کی تیسری چوتھی نسل ہر حربہ استعمال کر کے اپنے گھر بار اور یادیں چھوڑ کے یا تو پاکستان سے جا رہی ہے یا پہلی فرصت میں یہاں سے نکلنا چاہتی ہے پہلی نسل نے…
یہ کر دیں گے، وہ کر دیں گے
کسی کو یاد ہے کہ تیس جنوری کو اس ملک میں کیا ہوا تھا ؟ پشاور کی پولیس لائنز کی انتہائی سیکیورٹی والی مسجد کے اندر خود کش دھماکا ہوا تھا جس کے سبب ایک سو دو لوگ جاں بحق اور ڈھائی سو سے تین سو نمازی زخمی ہوئے۔مرنے اور زخمی ہونے والوں میں اکثریت…
جانِ من کہاں جا رہی ہو مجھے ڈسے بغیر؟
اس سے پہلے کہ پاکستانی حکومت 30 جنوری کے پشاور خود کش دھماکے کے ڈانڈے کابل سے ملاتی، افغان وزیرِ خارجہ امیر خان متقی نے پشتو کا ایک محاورہ داغ دیا ’پاکستان اپنی چھت پر پڑی برف خود صاف کرے، ہماری چھت پر نہ پھینکے۔‘ اس بیان کے بعد پاکستانی دفترِ خارجہ نے…
حکومت کوئی بھی ہو، غیر محفوظ ہی ہوتی ہے!
مغربی بنگال والے کہتے ہیں کہ جو بنگال آج سوچ رہا ہے، وہ باقی بھارت کل سوچے گا۔اگر میں اس بات کو جنوبی ایشیا کی سطح پر جا کے دیکھوں تو بات کچھ یوں بنے گی کہ جو پاکستان کل کر چکا، وہ بھارت آج کر رہا ہے۔ مثلاً ہم نے پچھلے پچھتر برس میں…
گزر آیا میں چل کے خود پر سے
ضمیر کسی نے نہیں دیکھا مگر ضمیر ہوتا ضرور ہے۔ یہ مطمئن بھی ہوتا ہے، بے چین بھی رہتا ہے، سو بھی جاتا ہے اور کبھی اچانک جاگ بھی پڑتا ہے۔ ضمیر انفرادی بھی ہوتا ہے اور اجتماعی بھی۔۔ جو مطمئن ضمیر ہے، وہ تو خیر ہے ہی مطمئن۔ مگر جو ضمیر پھانس بن کے…