بندہ مُک سکتا ہے، تمباکو نہیں
عالمی ادارہِ صحت کے تحت انیس سو ستاسی سے ہر سال اکتیس مئی کو یومِ نجاتِ تمباکو منایا جاتا ہے مقصد تمباکو کی پیداوار کے اثرات و متبادلات کے بارے میں آ گہی بڑھانا اور حکومتوں کو باور کرانا ہے کہ اگر وہ تمباکو پر دی جانے والی سبسڈی خوراک کی قلت میں کمی…
زندگی و موت کے فیصلے کرنے والے روبوٹس
میزائلوں سے تحفظ کے امریکی سسٹم پیٹریاٹ، اسرائیلی سسٹم آئرن ڈوم، چین کے بلو فش اے ٹو ڈرون، ٹینکوں کو میزائلوں اور راکٹوں سے بچانے والے روسی سسٹم ایرینا، اسرائیلی سسٹم ٹرافی اور جرمن سسٹم اماپ ایڈز میں کیا قدرِ مشترک ہے مصنوعی ذہانت سے مسلح یہ سب ہتھیار…
پی ٹی آئی سے میرا اعلانِ لاتعلقی
میں وسعت اللہ خان نو مئی کے وحشت ناک واقعات کی پُرزور مذمت کرتا ہوں۔ جو جو بھی ملوث ہے، اسے بلاامتیازِ طبقہ و جنس عبرت ناک سزا ملنی چاہیے تاکہ کسی کو مستقبل میں ایسے واقعات دہرانے کی جرأت نہ ہو حکومتِ وقت اور پاکستان کے سکیورٹی اداروں کی بیدار مغز بہادر…
ہجوم کے نڈر ہونے کا وقت ہوا چاہتا ہے
کھلونوں کی دوکانوں! راستہ دو، میرے بچے گذرنا چاہتے ہیں۔۔ (نامعلوم) عاصم بارہ برس کا ہے۔ لاہور میں گلبرگ کے کاروباری علاقے میں پھیری لگاتا ہے۔ صبح دس بجے سے شام سات بجے تک وہ تمام مارکیٹوں کے اندر اور باہر گھومتا گھماتا چھوٹی موٹی چیزیں بیچ کے پانچ سے چھ…
جب روبوٹ ہاتھ سے نکل جائے؟
جس طرح سولہ دسمبر دو ہزار چودہ کے پشاور آرمی پبلک اسکول سانحے میں ڈیڑھ سو بچوں اور اساتذہ کی موت نے سولہ دسمبر انیس سو اکہتر کے سقوطِ ڈھاکہ کی تکلیف دہ یاد سے جان چھڑا دی اسی طرح نو مئی کو جی ایچ کیو پنڈی اور کور کمانڈر لاہور کی رہائش گاہ سمیت…
عمرانی جن اور ٹوٹی ہوئی بوتل
اس طرح کی نعرے بازی یا گھیراؤ جلاؤ کوئی پہلی بار تھوڑی ہوا ہے۔ انیس سو اڑسٹھ میں بھی تو یہی ہوا تھا، جب دس سالہ سیاسی گھٹن کے مارے لوگوں کے سلگتےجذبات پر دس سالہ جشنِ ترقی نے نمک پاشی کا کام کیا اور ڈھاکہ تا پنڈی اور پنڈی تا کراچی پہلی بار بدتمیز…
آج میں کس کی حمایت کروں؟
یا توان لوگوں کو ادراک نہیں کہ ہم کھائی میں گر چکے ہیں اور اپنا وزن اٹھانے کے لیے کرین اور اس کے کرائے کا انتظام بھی ہمیں خود ہی کرنا ہے۔ پھر گمان ہوتا ہے کہ جو ریاست اپنے ہی چڑیا گھر میں ایک ہاتھی (نور جہاں) کو ہی خشک تالاب سے اٹھا کے…
پاکستانی سیاست، دودھ پر بلیوں کی لڑائی
بچپن سے مثال سنتے آ رہے ہیں ’من حرامی تے حجتاں ڈھیر‘ یعنی دل بے ایمان ہو تو کچھ نہ کرنے کے سو بہانے۔۔آئین کو سو سلام مگر جب دل چاہے گا تب عمل ہوگا، کبھی کلی تو کبھی جزوی عمل ہوگا۔۔ نہیں دل چاہے گا تو آئین کی کمر پے ایک سو ایک تاویلات…