کیا خودکشی قابلِ علاج ہے؟
وہ جو کہتے ہیں کہ خودکشی کرنے والا تو ’مکتی‘ پا جاتا ہے مگر ساتھ کے کئی لوگ معاشی و سماجی طور پر زندہ درگور ہو جاتے ہیں۔ خود کشی سوچ سمجھ کے بھی کی جاتی ہے، البتہ زیادہ تر لوگ کسی کمزور لمحے میں آناً فاناً فیصلہ کر کے اپنی جان لے لیتے ہیں۔…
آنکھیں اور کتنی پھٹیں گی؟
پاکستان میں اس وقت ضرورت سے زائد بجلی پیدا ہو رہی ہے اور ساتھ ہی دیگر کے علاوہ بجلی کا بحران بھی جاری ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ جلد آنے والی سرمایہ کاری سے سب مسئلے ٹھیک ہو جائیں گے اور سب کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی۔ کیا عجب انتظام ہے…
خوش باشی کی عالمی رپورٹ
اقوامِ متحدہ کے ’سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ سلوشنز نیٹ ورک‘ (ایس ڈی ایس این) کی دسویں سالانہ تازہ رپورٹ میں خوش باش اور اداس ممالک کی رینکنگ میں حسبِ معمول چوٹی کے بیس ناموں پر مغربی دنیا کا غلبہ ہے۔ ایک سو چھیالیس ممالک کی تازہ رینکنگ میں فن لینڈ مسلسل چھٹے…
روٹھے ہو تم، تم کو کیسے مناؤں پیا!
یہ ریاست ایک لمیٹڈ کمپنی ہے۔ اس کا بورڈ آف ڈائریکٹرز ہے۔ وہی کسی کو بھی چیف ایگزیکٹو مقرر کرنے یا ہٹانے کا مجاز ہے۔ اس چیف ایگزیکٹو کی باقاعدہ تنخواہ، مراعات و اختیارات طے ہیں۔ انسان چاہے تو ناشکرے پن کی کوئی انتہا نہیں۔ شکر گزار ہونا چاہے تو آس پاس…
ایک ماحول دوست سواری کا قصیدہ
آج (تین جون) عالمی یومِ بائسکل ہے۔ اس دن کا مقصد اس واحد سواری کی اہمیت اجاگر کرنا ہے، جو انسان کی جسمانی قوت سے رواں رہتی ہے ، یہ ماحولیات دوست سواری نہ پٹرول پیتی ہے ، نہ دھواں چھوڑتی ہے ایجاد کردہ سواریوں میں سب سے سستی ہے جس کی رفتار پیدل رفتار…
عمرانی جن اور ٹوٹی ہوئی بوتل
اس طرح کی نعرے بازی یا گھیراؤ جلاؤ کوئی پہلی بار تھوڑی ہوا ہے۔ انیس سو اڑسٹھ میں بھی تو یہی ہوا تھا، جب دس سالہ سیاسی گھٹن کے مارے لوگوں کے سلگتےجذبات پر دس سالہ جشنِ ترقی نے نمک پاشی کا کام کیا اور ڈھاکہ تا پنڈی اور پنڈی تا کراچی پہلی بار بدتمیز…
پاکستانی سیاست، دودھ پر بلیوں کی لڑائی
بچپن سے مثال سنتے آ رہے ہیں ’من حرامی تے حجتاں ڈھیر‘ یعنی دل بے ایمان ہو تو کچھ نہ کرنے کے سو بہانے۔۔آئین کو سو سلام مگر جب دل چاہے گا تب عمل ہوگا، کبھی کلی تو کبھی جزوی عمل ہوگا۔۔ نہیں دل چاہے گا تو آئین کی کمر پے ایک سو ایک تاویلات…
یہ کیا ہوا، کیسے ہوا، کب ہوا؟
گزرے جمعہ کو دو بڑے واقعات ہوئے۔ پہلا یہ کہ دوسری بڑی عالمی سپرپاور کی پیپلز کانگریس نے صفر کے مقابلے میں دو ہزار نو سو بانوے ووٹوں سے شی جن پنگ کو تیسری مدت کے لیے صدر منتخب کر لیا۔ گویا کم از کم اگلے پانچ برس بھی چین اسی داخلی و خارجہ ٹریک…