Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریں

سکس جی ٹیکنالوجی میں زیادہ رینج کا نیا رکارڈ قائم

By Akhtar Rasool
اگست 22, 2021 2 Min Read
1

فرینکفرٹ : ایسے وقت میں جب دنیا کے کچھ ممالک میں فائیو جی (5G) موبائل کمیونی کیشن ٹیکنالوجی کا آغاز کر رہے ہیں، جبکہ بیشتر ممالک ابھی اس کی تیاریوں میں مصروف ہیں، جنوبی کوریا کی ایل جی الیکٹرونکس نے جرمن تحقیقی اداروں کے تعاون سے سکس جی (6G) سگنلز کو سب سے زیادہ فاصلے تک بھیج کر ایک نیا رکارڈ قائم کردیا ہے

جرمنی میں کیا گیا یہ تجربہ ایل جی الیکٹرونکس اور مشہور جرمن ادارے ’’فرانہافر گیسیل شافٹ‘‘ کے سائنسدانوں نے مشترکہ طور پر انجام دیا

اس حوالے سے ملنے والی مزید تفصیلات کے مطابق، تجربے کے دوران سکس جی سگنلز کو 328 فٹ (100 میٹر) دوری تک بھیجنے اور ڈیٹا منتقل کرنے میں کامیابی حاصل کی گئی

’ایل جی‘ کی پریس ریلیز میں بتایا گیا ہے کہ سکس جی موبائل کمیونیکیشن کے لیے استعمال ہونے والی ریڈیو لہریں بہت زیادہ فریکوئنسی کی ہوتی ہیں، جو فاصلہ بڑھنے کے ساتھ ساتھ بہت تیزی سے کمزور پڑتی جاتی ہیں

یہ مسئلہ حل کرنے کے لیے ماہرین نے بہتر ایمپلی فائرز کے ساتھ ساتھ ہائی گین انٹینا بھی استعمال کیے، جبکہ 155 سے 175 گیگاہرٹز فریکوئنسی والی ریڈیو لہریں نشر کی گئیں

یوں تو صرف ایک سو میٹر دوری تک سکس جی سگنلز کے ذریعے ڈیٹا منتقلی بظاہر کوئی قابل قدر کارنامہ نہیں لگتی،  لیکن ابتدائی مراحل میں یہ یقیناً بہت اہمیت کی حامل ہے

ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے برسوں میں یہ تجربات جاری رکھتے ہوئے سکس جی ٹیکنالوجی کی رینج میں بتدریج اضافہ کیا جاتا رہے گا، تاکہ 2030ع تک یہ ٹیکنالوجی اس قابل ہوجائے کہ فائیو جی ٹیکنالوجی کی جگہ لیتے ہوئے مزید تیز رفتار موبائل ڈیٹا ٹرانسفر کی ضرورت پوری بھی پوری کرسکے

واضح رہے کہ فائیو جی کی رفتار بیس گیگا بٹس فی سیکنڈ تک ہے، جبکہ سکس جی اس سے بھی پچاس گنا تیز رفتار یعنی اس سے تقریباً ایک ٹیرا بٹس فی سیکنڈ (1 tbps) کی رفتار سے موبائل ڈیٹا ٹرانسفر کیا جا سکے گا.

Tags:

6G Highest Range Internet6G Technology
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

معاشرہ جہنم بن گیا،  ٹانڈہ میں بااثر اوباشوں کی بھرے بازار میں دو بہنوں سے دست درازی

Next

ہونڈا کا  الیکٹرک اسکوٹر، سواری کی دنیا میں ایک جدت لے آیا

One Comment

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme