
تپتے ہوئے سورج کی زرد شعاعیں جب بئر تاویل یا بئر طویل کی پتھریلی زمین پر گرتی ہیں، تو حدِ نگاہ تک ریت اور چٹانوں کے سوا کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ یہاں کی ہواؤں میں ایک عجیب سی خاموشی ہے، جس میں آواز بھی راستہ بھول جاتی ہے، ایک ایسا میدان، جہاں نہ کوئی شہر دکھائی دیتا ہے، نہ کوئی سرحدی چوکی اور نہ کسی ملک کا پرچم۔ صرف ہوا کی سرسراہٹ اور ریت کے ٹیلوں کا سناٹا ہے، جو صرف ان جگہوں پر ہوتا ہے جنہیں نقشہ نویس بھول گئے ہوں اور ریاستیں ٹھکرا چکی ہوں۔ اسی گونجتے سناٹے کے بیچ ایک ایسی زمین موجود ہے جس کے بارے میں دنیا بھر کے جغرافیہ دان، سیاح اور مہم جو ایک ہی سوال پوچھتے ہیں: کیا واقعی یہ زمین کسی کی نہیں؟
یہ افریقہ کا وہ گوشہ ہے جہاں ریت کے ذرات کسی ملکی پرچم کے سائے میں نہیں تڑپتے، بلکہ اپنی بے نیازی پر ناز کرتے ہیں۔ یہاں نہ تو سرحد کی کوئی باقاعدہ باڑ ہے اور نہ ہی کوئی پاسپورٹ کنٹرول آفس؛ یہاں صرف دھول ہے، سونا ہے اور وہ کہانیاں ہیں جو اسے دنیا کی واحد ’ٹیرا نولیئس‘ (Terra Nullius) یعنی لاوارث یا لادعویٰ زمین بناتی ہیں۔
لیکن جب اس کی تاریخ اور حقیقت کو قریب سے دیکھا جائے تو یہ سادہ سا جغرافیائی تصور ایک پیچیدہ سیاسی اور انسانی کہانی میں بدل جاتا ہے۔
صحرا کے نام کی اصل: ایک کنواں جس نے تاریخ بدل دی
اس علاقے کا اصل عربی نام ’بِئْر طویل‘ ہے۔ عربی میں ’بِئر‘ کا مطلب کنواں اور ’طویل‘ کا مطلب لمبا ہوتا ہے۔ یوں اس نام کا مطلب بنتا ہے ”لمبا کنواں“۔
صحرائی علاقوں میں پانی ہمیشہ زندگی کی علامت رہا ہے، اس لیے اکثر جگہوں کے نام کنوؤں اور چشموں سے جڑے ہوتے ہیں۔ امکان یہی ہے کہ کسی زمانے میں یہاں ایک اہم کنواں موجود تھا جس نے اس پورے خطے کو شناخت دی۔ وقت کے ساتھ یہ نام بدلتا ہوا ’بِر تاویل‘ بن گیا۔
تاریخی پس منظر: نقشوں کی جنگ اور ایک عجیب جغرافیائی خلا
بئر تاویل کی کہانی کسی سنسنی خیز ناول سے کم نہیں۔ یہ مصر اور سوڈان کے درمیان واقع 2060 مربع کلومیٹر کا وہ ٹکڑا ہے جسے دونوں ممالک اپنا ماننے سے انکاری ہیں۔ اس عجیب و غریب صورتحال کی جڑیں انیسویں صدی کے برطانوی نوآبادیاتی دور میں پیوست ہیں۔
برطانیہ نے 1899 میں ایک سیاسی سرحد کھینچی جو 22 ویں متوازی خطِ عرض پر مشتمل تھی، جس کے تحت ’حلايب مثلث‘ مصر کو اور ’بئر طویل‘ سوڈان کو ملا۔ لیکن محض تین سال بعد، 1902 میں ایک ’انتظامی سرحد‘ بنائی گئی تاکہ مقامی قبائل کی چراگاہوں کا انتظام بہتر ہو سکے۔ اس نئے نقشے نے حلايب سوڈان کو دے دیا اور بئر تاویل مصر کے حصے میں آ گیا۔
جان ایلج کی کتاب A History of the World in 47 Borders (اشاعت 2024) میں بئر تاویل کے حوالے سے انتہائی دلچسپ اور تحقیقی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ ایلج نے اس مقام کو انسانی حماقت اور نوآبادیاتی دور کی انتظامی غلطیوں کی ایک بہترین مثال کے طور پر پیش کیا ہے۔
جان ایلج اپنی کتاب میں اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں، کہ بئر تاویل کی موجودہ حالت برطانوی حکام کی اس عادت کا نتیجہ ہے جس میں وہ نقشوں پر سیدھی لکیریں کھینچنے کے شوقین تھے۔ برطانیہ نے دو الگ سرحدیں کھینچیں: 1899 کی سرحد، جب سوڈان پر مصر اور برطانیہ کا مشترکہ کنٹرول قائم ہوا، تو سرحد 22 ویں متوازی خط پر رکھی گئی۔ اس نقشے کے مطابق بئر تاویل سوڈان میں تھا۔ جب کہ 1902 کی انتظامی سرحد کے مطابق برطانیہ نے مقامی قبائل (جیسے عبابدہ اور بشارین) کی چراگاہوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک نئی سرحد کھینچی۔ اس نقشے کے مطابق بئر تاویل مصر کو دے دیا گیا۔
ایلج کے مطابق، مسئلہ یہ ہوا کہ کسی نے یہ واضح نہیں کیا کہ اب باضابطہ سرحد کون سی ہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ دونوں ممالک نے وہ نقشہ چن لیا جو انہیں ’حلايب مثلث‘ (جو کہ وسائل سے مالا مال علاقہ ہے) دیتا تھا، اور یوں بئر تاویل دونوں کے نقشوں سے باہر رہ گیا۔
آج صورتحال یہ ہے کہ مصر 1899 کے نقشے کو مانتا ہےتاکہ اسے وسائل سے مالا مال حلايب مل سکے اور سوڈان 1902 کے نقشے پر اصرار کرتا ہے۔ اس رسہ کشی میں ’حلايب‘ پر تو دونوں کا دعویٰ ہے، لیکن بئر تاویل وہ ”بدقسمت“ بچہ بن گیا ہے جسے کوئی گود لینے کو تیار نہیں، کیونکہ اسے اپنانے کا مطلب حلايب سے دستبردار ہونا ہے۔
کیا یہ واقعی غیر آباد ہے؟ حقیقت بمقابلہ افسانہ
انٹرنیٹ اور وکی پیڈیا پر عام طور پر بئر تاویل کو ایک بنجر، بے جان اور غیر آباد ریگستان کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، لیکن زمین پر اترنے والے سیاحوں اور محققین کی گواہی کچھ اور ہی کہانی سناتی ہے۔
انٹرنیٹ کا دعویٰ ہے یہ ایک ’نو مینز لینڈ‘ ہے جہاں زندگی کا وجود ناممکن ہے۔ جب کہ سیاحوں کا مشاہدہ مختلف ہے۔ ’ینگ پاینیر ٹورز‘ سے بانی گیرتھ جانسن (2019) اور محقق ڈین کارالیکاس (2020) کے مطابق، یہ علاقہ توقع سے کہیں زیادہ متحرک ہے۔ وہاں ’بئر تاویل ٹاؤن‘ نامی ایک عارضی بستی موجود ہے جہاں ہزاروں افراد آباد ہیں۔
اصل حقیقت یہ ہے کہ یہاں سونا دریافت ہو چکا ہے۔ سوڈان کے علاقے دارفور سے آنے والے مزدور اور مقامی ’عبابدہ‘ قبیلے کے لوگ یہاں بڑے پیمانے پر کان کنی کر رہے ہیں۔ یہاں لوہے کی چادروں سے بنے ریستوران ہیں، اسٹریٹ فوڈ ملتا ہے، حتیٰ کہ سیٹلائٹ فون کی سہولت اور ’سوڈانی وہسکی‘ (ایک مقامی مشروب) بھی دستیاب ہے۔ یہ کہنا کہ یہ جگہ خالی ہے، ان ہزاروں محنت کشوں کی موجودگی سے انکار کرنا ہے جو یہاں کی تپتی ریت سے رزق نکال رہے ہیں۔
ایلج اپنی کتاب میں لکھتے ہیں: ”جس حد تک دنیا میں کسی جگہ کو ’خالی‘ کہا جا سکتا ہے، بئر تاویل خالی ہے۔“ وہ وضاحت کرتے ہیں کہ یہاں پہنچنا انتہائی مشکل ہے کیونکہ یہ کسی بھی ٹرانسپورٹ ہب یا شاہراہ سے میلوں دور ہے۔ اس کے باوجود، وہ اس حقیقت کا اعتراف بھی کرتے ہیں کہ یہ علاقہ مختلف سلطنتوں (نوبیائی، عثمانی، مصری) کا دور دراز آؤٹ پوسٹ رہا ہے اور اسے مکمل طور پر غیر آباد سمجھنا ایک غلط فہمی ہے۔
ینگ پایونیر ٹوئرز کے بانی اور محقق گیرتھ جانسن نے 2019 میں اس علاقے کا دورہ کیا تھا۔ انہوں نے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے، ”بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ بئر طویل غیر آباد ہے، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ عبابدہ قبیلہ اسے اپنا آبائی وطن سمجھتا ہے اور اس کی حفاظت کرتا ہے۔ یہاں رہنے والے لوگ عام طور پر سونے کی کانوں میں کام کرتے ہیں جن کا انتظام عبابدہ قبیلے کے پاس ہے، جبکہ زیادہ تر مزدور سوڈان کے علاقے ’دارفور‘ سے آتے ہیں۔ ہمارا اندازہ ہے کہ کسی بھی وقت وہاں ہزاروں لوگ موجود ہوتے ہیں اور ’بئر طویل ٹاؤن‘ میں اتنی گنجائش ہے کہ وہاں بڑی آبادی رہ سکے۔“
وہ مزید لکھتے ہیں ”عبابدہ قبیلہ اسے اپنی زمین مانتا ہے اور وہ اسے کسی ملک کا حصہ نہیں سمجھتے۔ اگرچہ قبیلے نے ابھی تک اسے ایک علیحدہ ریاست قرار نہیں دیا، لیکن یہ علاقہ فوجی طور پر روسی رائفلوں سے لیس جنگجوؤں کے ذریعے محفوظ ہے اور 2022 تک سوڈانی فوج کا وہاں داخل ہونے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔“
گیرتھ جانسن کے مطابق، ”وکی پیڈیا اسے غیر آباد کہتا ہے، لیکن ہم نے وہاں سونے کی کانیں اور کم از کم ایک بڑا ”قصبہ“ دیکھا۔ ہم نے اسے ”بئر طویل ٹاؤن“ کا نام دیا جہاں دکانیں، اسٹریٹ فوڈ، ریستوران اور سیٹلائٹ فون تک موجود ہیں۔“
مہم جوئی یا مذاق؟ خود ساختہ بادشاہوں کی کہانیاں
بئر تاویل کی ”لاوارث“ حیثیت نے دنیا بھر کے انوکھے خواب دیکھنے والوں کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے۔
ایک امریکی کسان جیریمیا ہیٹن نے 2014 میں اس وقت سرخیوں میں جگہ بنائی جب وہ اپنی بیٹی ایملی کا شہزادی بننے کا خواب پورا کرنے یہاں پہنچے۔ انہوں نے اپنا جھنڈا گاڑا اور اسے ”مملکتِ شمالی سوڈان“ قرار دیا۔ اگرچہ دنیا نے اسے ایک پیار کرنے والے باپ کی کہانی کے طور پر دیکھا، لیکن مقامی عبابدہ قبیلے کے لیے یہ ایک ”بیوقوف امریکی“ کی مداخلت تھی جو ان کی ہزاروں سالہ پرانی سرزمین پر اپنا حق جتا رہا تھا۔
2017 میں اندور سے تعلق رکھنے والے ایک بھارتی سویش ڈکشت یہاں پہنچے، پودا لگایا اور اسے ”مملکتِ ڈکشت“ (Kingdom of Dixit) کا نام دیا۔ انہوں نے خود کو بادشاہ اور اپنے والد کو صدر مقرر کر دیا اور آن لائن شہریت کے لیے درخواستیں بھی طلب کیں۔
جبکہ ایک روسی شہری کا دعویٰ ہے کہ باقی سب جھوٹے ہیں اور صرف وہی وہاں گیا ہے اور یہ ”ملک“ اس کا ہے۔ حتیٰ کہ کچھ منچلوں نے تو یہاں ایسے جھنڈے بھی لگائے جن پر مضحکہ خیز تصاویر بنی ہوئی تھیں۔
ان لوگوں کے دعووں کا ذکر کرتے ہوئے اپنی کتاب میں ایلج طنزیہ لہجے میں لکھتے ہیں کہ ہیٹن نے اسے ایک ”محبت کرنے والے باپ“ کی کہانی بنا کر پیش کیا جو اپنی بیٹی کو شہزادی بنانا چاہتا تھا، لیکن درحقیقت یہ ان مقامی لوگوں (عبابدہ قبیلے) کے لیے ایک توہین کے برابر تھا جو صدیوں سے وہاں رہتے آئے ہیں۔ ایلج کے بقول، انٹرنیٹ پر دعویٰ کرنا آسان ہے لیکن زمین کی حقیقت بالکل مختلف ہے۔
مقامی قبیلہ: اصل حکمران کون؟
تاریخی طور پر ’عبابدہ‘ اور ‹بشارین‘ قبائل رومی سلطنت کے دور سے اس خطے میں موجود ہیں۔ ان کے نزدیک انٹرنیٹ پر کیے جانے والے ملکیتی دعوے محض مذاق ہیں۔ محقق ڈین کارالیکاس کے مطابق، یہ قبائل اپنی زمین کے حوالے سے انتہائی حساس اور جدید روسی رائفلوں سے مسلح ہیں۔ وہ کسی بھی غیر ملکی کو وہاں حکومت قائم کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ سیاحوں کو بھی وہاں جانے کے لیے قبائلی سرداروں سے ”اجازت“ لینی پڑتی ہے، ورنہ وہاں کی ”لاقانونیت“ جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔
یوں اس علاقے کی حقیقت کو ایک پیچیدہ معمے کی صورت اختیار کرتی ہے۔ انٹرنیٹ اور میڈیا کے عمومی تصور کے برعکس، جسے اکثر ایک مکمل غیر آباد صحرا سمجھا جاتا ہے، زمینی حقیقت یہ ہے کہ یہاں ہزاروں کان کنوں اور قبائلی گروہوں کی مستقل آبادیاں موجود ہیں۔ جہاں عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہاں ریت کے سوا کچھ نہیں، وہاں عملی طور پر زندگی کے آثار نمایاں ہیں، جن میں دکانیں، فون بوتھ، مقامی مارکیٹس اور بکریوں کے ریوڑ جیسے زرعی مظاہر شامل ہیں۔ سب سے اہم فرق ملکیت کا ہے؛ عالمی سطح پر اسے شاید لا دعویٰ علاقہ (Terra Nullius) سمجھا جاتا ہو، لیکن حقیقت میں مقامی قبائل اسے اپنا وطن تسلیم کرتے ہیں اور اس کے دفاع کے لیے مسلح بھی ہیں۔ یوں یہ مقام محض ایک مہم جوئی کا مرکز نہیں ہے، بلکہ ایک حساس کان کنی کا علاقہ ہے جہاں بھاری مشینری اور معاشی سرگرمیاں ہمہ وقت جاری رہتی ہیں۔
ایلج ایک اہم نکتے کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ بئر تاویل کی قسمت دراصل حلايب مثلث سے جڑی ہوئی ہے۔ جب تک مصر یا سوڈان میں سے کوئی بھی حلايب سے دستبردار نہیں ہوتا، تب تک بئر تاویل قانونی طور پر لاوارث ہی رہے گا۔ وہ اسے دنیا کا ایک ایسا جغرافیائی خلا قرار دیتے ہیں جو صرف اس لیے موجود ہے کیونکہ دو بڑے ممالک ایک دوسرے کی زمین پر نظریں جمائے بیٹھے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:
-
زمین پر ایک ایسا سمندر بھی ہے، جس کا کوئی ساحل نہیں۔
-
آرمینیا کے قدیم ’ڈریگن اسٹونز‘: چھ ہزار سال پرانے آبی فرقے کی یادگاریں
-
گنج سوائی کا المیہ: ایک عام ملاح سے سمندر کا باشاہ بننے والا قزاق اور تاریخ کی بڑی لوٹ
رقبہ: ایک صحرا جو کئی ملکوں سے بڑا ہے
بِئر طویل کا رقبہ تقریباً دو ہزار ساٹھ مربع کلومیٹر ہے۔ یہ سننے میں چھوٹا لگتا ہے لیکن حقیقت میں کئی ممالک اس سے بھی چھوٹے ہیں۔ مثلاً بحرالکاہل کا ملک ناورُو Nauru اس سے کہیں کم رقبہ رکھتا ہے، جبکہ یورپ کی چھوٹی ریاست ویٹیکن سٹی تو اس کے مقابلے میں نہایت مختصر ہے۔ اس کے باوجود یہاں نہ کوئی حکومت ہے، نہ کوئی دارالحکومت اور نہ کوئی باضابطہ ریاستی نظام۔
ریگستان کی دھوپ میں جھلستا ہوا یہ خطہ محض ریت کا ڈھیر نہیں، بلکہ جغرافیائی سیاست کا ایک انوکھا عجوبہ ہے۔ ذرا تصور کریں کہ اگر کبھی قسمت کی دیوی مہربان ہو جائے اور یہ ایک آزاد ملک کی حیثیت اختیار کر لے، تو یہ دنیا کی چھوٹی ریاستوں کی فہرست میں سب سے نیچے ہرگز نہیں ہوگا۔ اس کا 2,060 مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا رقبہ ویٹیکن سٹی جیسے ننھے سے ملک یا ناورو جیسے جزیرے سے کہیں زیادہ بڑا ہے!
لیکن رقبہ ہی ہمیشہ سب کچھ نہیں ہوتا۔ یہ زمین کا وہ ٹکڑا ہے جس کا کوئی بھی سرکاری طور پر دعویدار بننے کو تیار نہیں تھا۔ ایک طویل عرصے تک مصر اور سوڈان دونوں ہی اس زمین سے نظریں چرا کر حلايب مثلث پر نظریں جمائے بیٹھے رہے۔ اس کی وجہ بڑی واضح تھی: بئر طویل کا بیشتر حصہ ایک سنگلاخ صحرا ہے جہاں ہریالی خواب معلوم ہوتی ہے اور پانی کا نام و نشان تک نہیں ملتا۔ یہ تو بہت بعد کی بات ہے جب یہاں ”سونے“ کی چمکدار رگیں دریافت ہوئیں اور اس ”لاوارث“ زمین نے اچانک دنیا بھر کی توجہ اپنی جانب کھینچ لی۔ اب یہ محض ایک ریگستانی ٹکڑا نہیں رہا، بلکہ ایک چھپا ہوا خزانہ بن چکا ہے جو اپنی خاموش پہچان کے پیچھے مہم جوئی کی کئی داستانیں چھپائے ہوئے ہے۔
رہا یہ سوال کیا آپ بئر تاویل پر قبضہ کر سکتے ہیں؟ تو اس کا مختصر جواب ہے: نہیں۔ اگرچہ کاغذات میں کوئی ملک اسے اپنا نہیں کہتا، لیکن عملی طور پر یہ علاقہ قبائلی اثر و رسوخ میں ہے۔ مزید برآں، مصر اور سوڈان کی حکومتیں کبھی بھی اپنی سرحد پر کسی نئی ”مائیکرو نیشن“ یا ننھے ملک کو برداشت نہیں کریں گی۔ اگر کبھی ان دونوں ممالک کے درمیان حلايب کا مسئلہ حل ہوا، تو بئر تاویل خود بخود کسی ایک ریاست کا باقاعدہ حصہ بن جائے گا۔
دنیا کے دیگر ”لا دعویٰ“ خطے
بِر تاویل کو اکثر دنیا کی واحد حقیقی ٹیرا نلیئس یا لا دعویٰ زمین کہا جاتا ہے، لیکن کچھ اور خطے بھی ایسے ہیں جن کی قانونی حیثیت پیچیدہ ہے۔
جنوبی براعظم انٹارکٹیکا کے اندر ایک وسیع علاقہ میری برڈ لینڈ Marie Byrd Land موجود ہے جس پر کسی ملک نے باضابطہ دعویٰ نہیں کیا، لیکن یہ علاقہ انٹارکٹک معاہدے کے تحت بین الاقوامی نظام میں آتا ہے، اس لیے اسے مکمل آزاد زمین نہیں کہا جا سکتا۔
اسی طرح یورپ میں دریائے ڈینیوب کے کنارے سربیا اور کروشیا کے درمیان واقع ایک متنازع علاقہ گورنیا سیگا Gornja Siga بھی بعض اوقات ”لا دعویٰ زمین“ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ یہاں کچھ لوگوں نے لبرلینڈ (Liberland) نامی مائیکرو ریاست کا تصور بھی پیش کیا، جو ایک خود ساختہ ‘مائیکرو نیشن’ ہے جس کی بنیاد ایک چیک سیاستدان وِٹ جیڈلیکا نے 2015 میں رکھی۔ اس کا رقبہ صرف 7 مربع کلومیٹر ہے۔ یوگوسلاویہ کے ٹوٹنے کے بعد جب نئی سرحدیں بنیں، تو سربیا اور کروشیا کے درمیان اس چھوٹے سے ٹکڑے پر کسی نے دعویٰ نہیں کیا۔ وِٹ نے اسے موقع سمجھ کر یہاں اپنا جھنڈا گاڑ دیا اور ”جیو اور جینے دو“ کے نعرے کے ساتھ ایک نئی ریاست کا اعلان کر دیا۔ اگرچہ ہزاروں لوگوں نے آن لائن لبرلینڈ کی شہریت لی ہے، لیکن عملی طور پر کروشیا کی پولیس کسی کو وہاں مستقل رہنے کے لیے داخل ہونے نہیں دیتی۔ لبرلینڈ مائیکرو ریاست کے تصور کو عالمی سطح پر تسلیم نہیں کیا گیا۔
ان مثالوں کے باوجود، عملی طور پر بِر تاویل ہی وہ مقام ہے جسے سب سے زیادہ ”حقیقی لا دعویٰ زمین“ کہا جاتا ہے۔
حقیقت اور تصور کے درمیان ایک زمین
بِر تاویل یا بئر طویل کی کہانی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ نقشے ہمیشہ حقیقت کی مکمل تصویر نہیں ہوتے۔ سرحدیں اکثر سیاسی فیصلوں کا نتیجہ ہوتی ہیں، جبکہ زمین پر زندگی اپنے طریقے سے چلتی رہتی ہے۔
بئر تاویل ہمیں یاد دلاتا ہے کہ سرحدیں محض کاغذ پر کھینچی گئی لکیریں نہیں ہوتیں، بلکہ یہ انسانی مفادات، تاریخ اور بقا کی جنگ کا عکس ہوتی ہیں۔ آج یہ علاقہ سونے کے متلاشیوں، خانہ بدوشوں اور چند سرپھرے سیاحوں کا مسکن ہے، جو اس کی بے نامی میں اپنی پہچان ڈھونڈ رہے ہیں۔ یہاں آج بھی صحرا میں قافلے گزرتے ہیں، کان کن زمین کھودتے ہیں اور مسافر اس خاموش خطے کو دیکھ کر حیران رہ جاتے ہیں جہاں دنیا کی سیاست ایک غیر معمولی موڑ پر آ کر رک جاتی ہے۔
References/ Source:
-
Bir Tawil: The Land No Country Wants To Own (Dr. Katie Spalding)
-
Bir Tawil: The Strange Tale of Unclaimed Land




