Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریں

ماحولیاتی بہتری کے لیے سائنسدان گائیوں کو ’’پوٹی ٹریننگ‘‘ دینے لگے

By Akhtar Rasool
ستمبر 15, 2021 2 Min Read
0

برلن : سائنس دان ماحولیاتی بقا کے لیے گائیوں کو بچوں کی طرح  مخصوص جگہ پر ’ گوبر کرنے‘ کی تربیت دے رہے ہیں

تفصیلات کے مطابق سی این این پر نشر ہونے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ”اگر آپ بچے کو پوٹی کرنے کی تربیت دے سکتے ہیں تو پھر گائے کو کیوں نہیں؟“ کی تھیوری کو سامنے رکھ کر جرمنی سے تعلق رکھنے والے ریسرچر کا ایک گروپ گائیوں کو ’ گوبر کرنے‘ کی تربیت دے رہا ہے۔

اس تھیوری پر عمل پیرا ریسرچرز کا اس بارے میں کہنا ہے کہ اس تجربے کا مقصد مویشیوں کے فضلے کی وجہ سے ہونے والے ماحولیاتی نقصان کا حل تلاش کرنا ہے

اس حوالے سے سائنس جریدے کرنٹ بایولوجی میں شائع ہونے والے مطالعے کے شریک مصنف اور جرمنی کے ریسرچ انسٹیٹیوٹ فار فارم اینیمل بایولوجی میں جانوروں کے ماہر نفسیات جین لینگ بین کا کہنا ہے کہ ’’عام طور پر مویشیوں کے بارے میں یہ تصور کیا جاتا ہے کہ وہ بول و براز( پیشاب و گوبر) پر قابو پانے کے اہل نہیں ہوتے۔ فارم میں رہنے والے والے مویشی عموما روزانہ 66 سے 88 پاؤنڈ فضلہ اور 8 گیلن پیشاب خارج کرتے ہیں، اور یہ کام وہ جہاں دل چاہے کردیتے ہیں۔ تاہم ان کے فضلے کے مٹی میں ملنے سے ماحول پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ زراعت دنیا بھر میں امونیا کے اخراج کا سب سے بڑا ذریعہ ہے، اور اس میں مویشیوں کی فارمنگ کا حصہ نصف سے زائد ہے۔ جب کہ یورپ میں خارج ہونے والی 90 فیصد امونیا زراعت سے آتی ہے۔
اگر چہ گائے کے فضلے سے خارج ہونے والی امونیا براہ راست ماحولیاتی تبدیلی میں اپنا حصہ شامل نہیں کرتی، لیکن مٹی کے ساتھ مل کر یہ گرین ہاؤس گیس نائٹروس آکسائیڈ میں تبدیل ہوجاتی ہے، جس سے مٹی اور آبی راستے آلودہ ہوتے ہیں۔ گائیوں کو مخصوص جگہ پر گوبر کرنے کی تربیت دینےکا مقصد اس آلودگی سے ماحول اور آبی راستوں کو آلودگی سے بچانا ہے.

Tags:

EnvironmentEnvironmentalistResearch
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

پچاس اقسام کے کینسر شناخت کرنے والا بلڈ ٹیسٹ

Next

جیلوں سے نہیں ڈرتا، مناسب وقت پر پاکستان آؤں گا، اسٹبلشمنٹ سے جھگڑا نہیں. نواز شریف

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme