Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینتعلیم و صحت

کورناوائرس: کیا آپ کو نزلہ زکام ہے؟ اگر ہاں۔۔۔۔۔ تو یہ ضرور پڑھیے!

By Akhtar Rasool
جولائی 5, 2020 2 Min Read
0

برطانوی میڈیا کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ  سائنسدانوں کی طرف سے نئی تحقیق سامبے آئی ہے.. تحقیق کے مطابق جو لوگ نزلہ زکام کو برداشت کر چکے ہیں، ان میں کورونا وائرس کی علامات سنگین ہونے کا امکان بہت کم ہوتا ہے.

تحقیق میں سائنسدانوں کا مزید  کہنا ہے کہ  انسان کا مدافعتی نظام کورونا وائرس کی تمام اقسام کے خلاف ایک ہی طریقے سے ردعمل ظاہر کرتا ہے۔ ان میں کرونا کی وہ اقسام بھی شامل ہیں، جو نزلہ زکام اور سانس کی نالی اور سینے کے معمولی انفیکشنز کا سبب بنتی ہیں۔  جب یہ اقسام جسم میں داخل ہوتی ہیں تو مدافعتی نظام ان کے خلاف لڑتا ہے. یہی وجہ ہے کہ اس کے  انسان کا مدافعتی نظان کورونا وائرس سے لڑنے کے لیے بھی تیار ہو جاتا ہے۔

جرمنی کے یونیورسٹی ہاسپٹل تیوبنجن کے سائنسدانوں نے اس تحقیق کے لیے ہزاروں افراد پر اپنے تجربات کیے۔ ان میں ہر دس میں سے آٹھ افراد ایسے پائے گئے، جو کبھی اس مرض کا شکار نہیں ہوئے تھے، لیکن اس کے باوجود ان میں کسی حد تک اس کے خلاف قوت مدافعت موجود تھی۔ یہ وہ لوگ تھے جو کورونا وائرس کی دیگر اقسام کا شکار ہو کر نزلہ زکام اور دیگر انفیکشنز وغیرہ سے گزر چکے تھے۔

سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ نزلہ زکام سے صحت مند ہونے والے مریضوں میں "ٹی سیل امیونٹی” پیدا ہو جاتی ہے اور یہ کافی وقت تک انسانی جسم میں موجود رہتی ہے۔ اس دوران اگر کورونا وائرس جسم میں داخل ہو تو ہمارا مدافعتی نظام پہلے ہی اس کے خلاف لڑنے کے لیے تیار ہوتا ہے. حالیہ تحقیق میں کیے گئے دعوی’ کے مطابق ایسے مریض میں کورونا وائرس کی علامات زیادہ سنگین نہیں ہوتیں.

Tags:

CORONACOVID19FLUEVIRUS
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

ایک تصویر ، ایک کہانی(3)

Next

سالانہ انکریمینٹ بنیادی تنخواہ میں ضم نہ کرنے کا فیصلہ.

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme