Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریںعالمی

اشرف غنی کے کابل چھوڑنے سے قبل پاکستان سے فون کال آئی تھی، امریکی میگزین کا دعویٰ

By Akhtar Rasool
دسمبر 14, 2021 5 Min Read
0

واشنگٹن – ایک امریکی میگزین نے اپنی تازہ اشاعت میں دعویٰ کیا ہے کہ پاکستانی نمبر سے موصول ہونے والے ایک ٹیکسٹ میسج اور فون کال کے بعد سابق مشیر قومی سلامتی حمد اللہ محب، سابق صدر اشرف غنی کے ساتھ اہلِ خانہ کے ہمراہ افغانستان چھوڑنے پر آمادہ ہوئے

تفصیلات کے مطابق نیویارکر میگزین کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ طالبان جنگجوؤں کے کابل پر قبضے والے روز، 15 اگست کو تقریباً ایک بجے ایک پیغام آیا کہ طالبان کے حقانی گروپ کے سربراہ خلیل حقانی حمداللہ محب سے بات کرنا چاہتے ہیں، جس پر انہوں نے خلیل حقانی کی کال اٹھالی، کال پر انہیں ہتھیار ڈالنے کا کہا گیا

رپورٹ کے مطابق خلیل حقانی نے کہا کہ اگر حمداللہ محب ایک مناسب بیان دے دیتے ہیں، تو وہ ملاقات کر سکتے ہیں، لیکن جب سابق مشیر قومی سلامتی نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے پہلے مذاکرات کا کہا تو خلیل حقانی نے اپنی بات دہرا کر کال کاٹ دی

اخبار کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خلیل حقانی نے زلمے خلیل زاد کے نائب ٹام ویسٹ کو دوحہ میں کال کی اور انہیں خلیل حقانی کی کال سے آگاہ کیا، جس پر ٹام ویسٹ نے انہیں ملاقات کے لیے نہ جانے کا مشور دیا کیوں کہ یہ ایک جال ہو سکتا تھا

اس سے قبل اُسی روز حمد اللہ محب نے صدر اشرف غنی اور یو اے ای کے ایک سفارتکار کے ساتھ صدارتی محل کے عقب میں ایک لان میں ممکنہ انخلا کے منصوبے پر بات چیت کی تھی

جس وقت وہ بات کررہے تھے انہیں محل کے باہر سے گولیوں کی آواز سنائی دی، جس پر اشرف غنی کے باڈی گارڈز انہیں فوری طور پر اندر لے گئے

دوپہر میں حمد اللہ محب نے اشرف غنی سے لائبریری میں ملاقات کی اور اتفاق کیا کہ صدر کی اہلیہ رولا غنی اور غیر ضروری عملے کو، جتنی جلد ممکن ہو، یو اے ای کے لیے روانہ ہوجانا چاہیے

حمد اللہ محب کے یو اے ای میں واقف کاروں نے کابل سے متحدہ عرب امارات کے لیے سہ پہر 4 بجے روانہ ہونے والی امارات ایئرلائن کی پرواز میں نشستوں کی پیشکش کی

رپورٹ کے مطابق اشرف غنی نے حمداللہ محب سے کہا کہ وہ رولا غنی کے ہمراہ دبئی جائیں اور اس کے بعد دوحہ جا کر مذاکراتی ٹیم سے ملیں، تاکہ کابل کا قبضہ دینے کے سلسلے میں زلمے خلیل زاد اور طالبان رہنما ملا برادر کے درمیان ہونے والی بات چیت کو حتمی شکل دی جاسکے

جس کے بعد تقریباً دو بجے حمد اللہ محب سابق صدر کی اہلیہ کو دل کشا محل کے عقب میں واقع ہیلی پیڈ پر لے گئے، تاکہ امارات ایئر لائن کی پرواز میں سوار ہونے کے لیے حامد کرزئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہنچا جاسکے

اس وقت تک صدر کے تین ایم آئی-17 ہیلی کاپٹر صدارتی محل ارگ میں تھے اور چوتھا ایئرپورٹ پر موجود تھا

وہاں جا کر حمد اللہ محب کو معلوم ہوا کہ پائلٹوں نے ہیلی کاپٹر میں پورا ایندھن بھروا رکھا ہے، کیوں کہ وہ جتنی جلد ممکن ہو، براہِ راست تاجکستان یا ازبکستان پرواز کرنا چاہتے تھے، پناہ کی تلاش میں افغان فوج کے دیگر پائلٹس بھی فرار ہونے کے لیے یہ راستہ استعمال کرچکے تھے

نیویارکر کی رپورٹ کے مطابق پائلٹس نے رولا غنی کے ساتھ ایئرپورٹ جانے سے انکار کردیا، کیوں کہ انہوں نے سنا تھا کہ کچھ افغان فوجی وہاں ہیلی کاپٹر کو قبضے میں لے رہے ہیں یا گراؤنڈ کررہے ہیں

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جب وہ لوگ یہ بات کررہے تھے صدارتی گارڈز کے سربراہ قہر کوچے نے حمداللہ محب سے کہا کہ ’اگر آپ چلے گئے تو آپ صدر کی زندگی خطرے میں ڈال دیں گے‘

جس پر حمداللہ محب نے ان سے جواباً پوچھا کہ کیا آپ چاہتے ہیں میں رک جاؤں؟ اس کے جواب میں قہر کوچے نے کہا کہ ’نہیں میں چاہتا ہوں کہ آپ صدر کو اپنے ساتھ لے کر جائیں‘۔

میگزین کی رپورٹ کے مطابق حمد اللہ محب کو شک تھا کہ اگر طالبان صدارتی محل میں داخل ہوگئے تو شاید اشرف غنی کے تمام باڈی گارڈ وفادار نہ رہیں، جبکہ قہر کوچے نے اس بات کا اشارہ دیا تھا کہ ’ان کے پاس صدر کے تحفظ کے لیے وسائل نہیں‘

رپورٹ میں کہا گیا کہ حمد اللہ محب نے رولا غنی کو صدارتی ہیلی کاپٹر میں سوار کر کے انتظار کرنے کا کہا اور خود قہر کوچے کے ساتھ رہائش گاہ پر واپس آئے جہاں اشرف غنی کو کھڑے پایا تو کہا کہ ’صدر یہی وقت ہے، ہمیں جانا ہوگا‘

اشرف غنی کچھ سامان اکٹھا کرنے کے لیے اوپر جانا چاہتے تھے، لیکن حمد اللہ محب کو ’اس بات کی فکر تھی کہ ہر منٹ کی تاخیر کے ساتھ مسلح محافظوں کی جانب سے افراتفری اور بغاوت کا خطرہ بڑھتا رہے گا جس پر اشرف غنی اپنے پاسپورٹ تک کے بغیر ہی کار میں بیٹھ گئے‘

رپورٹ کے مطابق جب عملے اور ذاتی محافظین نے صدر کو جاتے دیکھا تو وہ بھی پرواز کے لیے لڑنے اور شور مچانے لگے، جس پر پائلٹس نے کہا کہ ایک ہیلی کاپٹر میں صرف چھ مسافر سوار ہوسکتے ہیں

اشرف غنی، رولا غنی اور حمداللہ محب کے ساتھ نو عہدیدار سوار ہوئے اور اشرف غنی کی سیکیورٹی کے اراکین نے بھی ایسا ہی کیا اور ازبکستان پرواز کر گئے

اُس روز امریکی مندوب زلمے خلیل زاد صبح دوحہ میں ملا برادر کے ساتھ ہتھیار ڈالنے کے منصوبے پر بات کررہے تھے اور ملا برادر نے اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ ’وہ کابل میں داخل نہیں ہوں گے‘ اور دارالحکومت میں داخل ہونے والے چند سو طالبان جنگجووں کو واپس بلا لیں گے

جس کے بعد امریکی مندوب نے واٹس ایپ پر صدارتی معاون عبدالسلام رحیمی سے رابطہ کیا اور انہیں اس منصوبے سے آگاہ کیا

رپورٹ میں کہا گیا کہ عبدالسلام رحیمی نے اشرف غنی کو بتایا کہ طالبان نے کابل میں داخل نہ ہونے کا وعدہ کیا ہے، حالانکہ یہ زلمے خلیل زاد اور طالبان کی یقین دہانی پر تھا لیکن اشرف غنی نے دونوں کو ناقابل اعتماد ذرائع کے طور پر دیکھا

جب اشرف غنی ازبکستان پرواز کر گئے تو عبدالسلام رحیمی اور ارگ محل کے عملے کے درجنوں ارکان پیچھے رہ گئے، جنہیں کچھ معلوم نہیں تھا کہ اشرف غنی اور حمد اللہ محب کہاں گئے جبکہ طالبان کے ساتھ معاہدے کے لیے بات چیت اس وقت بھی جاری تھی.

Tags:

Afghanistan TalibanAshraf GhaniAshraf Ghani EvocationUSA
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

امریکا کا افغان ڈرون حملے کے ذمہ دار فوجیوں کو سزا نہ دینے کا اعلان

Next

پاکستان میں انٹرنیٹ کے بغیر ’آسان موبائل اکاؤنٹ‘ سے بینکنگ کا آغاز

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme