Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتاریختازہ ترینخبریں

بلوچستان : ضلع کچھی کا تاریخی مقبرہ تباہی کے دہانے پر

By Akhtar Rasool
فروری 15, 2022 4 Min Read
0

کوئٹہ – صوبہ بلوچستان کے ضلع کچھی میں متعدد آثار قدیمہ کے ساتھ ساتھ قدیم تاریخی تہذیب کا شاہکار مہرگڑھ بھی واقع ہے، جہاں واقع ایک مقبرہ
فنِ تعمیر کے ایک تاریخی علامت کے طور پر ایستادہ ہے

اس مقبرے کو دیکھ کر یہ سوال ذہن میں آتا ہے کہ ضلع کچھی کی تحصیل شہر بھاگ کے آخر میں اونچے ٹیلے پر واقع یہ مقبرہ کس کا ہے اور اسے کس نے تعمیر کروایا ہوگا

اس گنبد نما عمارت کے اندر کچھ قبریں بنی ہوئی ہیں، جو خستہ حال ہیں اور اس کے آس پاس بھی کچھ قبریں موجود ہیں

اس مقبرے کے کتبے اور دوسرے نشانات معدوم ہوچکے ہیں اور چھت میں بھی سوراخ ہوچکا ہے۔ صرف دو کتبے باقی رہ گئے ہیں، جن پر فارسی میں عبارتیں درج ہیں، تاہم انہیں پڑھ پانا ممکن نہیں رہا

مقامی افراد کے مطابق اس مقبرے کے بارے میں مشہور ہے کہ یہ ان ’شہیدوں‘ کی قبریں ہیں جنہوں نے زمانہ قدیم کی کسی جنگ میں حصہ لیا تھا

تاہم اس حوالے سے معروف مصنف اور تاریخ کا علم رکھنے والے محمد پناہ بلوچ کا کہنا ہے کہ یہ شہدا کی قبریں نہیں بلکہ خان آف قلات کے خاندان والوں کی قبریں ہیں

پناہ بلوچ نے بتایا کہ یہ تقریباً ڈھائی تین سوسال پرانا مقبرہ ہوسکتا ہے، تاہم اس پر باقاعدہ تحقیق کی ضرورت ہے

انہوں نے کہا کہ عدم توجہی اور دیکھ بھال نہ ہونے سے بہت سے تاریخی آثار مٹتے جارہے ہیں۔ ضلع کچھی میں بہت سے آثار ہیں اور یہاں پانچ سے دس کلومیٹر پر آپ کو کوئی تاریخی مقام مل جائے گا

پناہ بلوچ نے بتایا کہ اس مقبرے کے طرز تعمیر کو ’کلہوڑا اور مغل طرز تعمیر‘ کہتے ہیں، جس میں مقبرے گنبد نما اور بہت بڑے بنائے جاتے تھے

یاد رہے کہ ضلع کچھی کسی زمانے میں جنگوں کا مرکز رہا ہے اور یہاں سے فوجی قافلے سندھ اور دوسرے علاقوں کی طرف جاتے تھے

اسی طرز کا ایک مقبرہ گنداواہ بھی ہے، جسے موتی گہرام کا مقبرہ کہا جاتا ہے۔ اس کی طرز تعمیر بھی بھاگ کے اس مقبرے سے مماثلت رکھتا ہے

یہ مقبرہ ایک باقاعدہ محفوظ جگہ پر ہے اور اس کے چاروں کونوں پر بھی مورچہ نما عمارت بنی ہے، جبکہ چھت ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے اور اس کی اینٹیں گر رہی ہیں

مقامی افراد نے بتایا کہ اس کے داخلی دروازے کے قریب دونوں اطراف سے سیڑھیاں بنی ہیں، جو ایک عرصے تک قابل استعمال تھیں، لیکن چھت میں سوراخ کے باعث پانی آنے سے ان کو نقصان پہنچا ہے

پناہ بلوچ نے بتایا کہ اگر ان تاریخی عمارتوں پر توجہ دی جائے تو ہماری تاریخ کے اہم حصے اور آثار قدیمہ محفوظ رہ سکتے ہیں

معماروں نے اس کی تعمیر کرتے وقت اس بات کا خیال رکھا کہ پانی اور دیگر آفات عمارت کو نقصان نہ پہنچائیں، اس لیے اس کو ایک بڑے ٹیلے پر بنایا گیا ہے اور اس کے سامنے شہر اور پیچھے قدرتی جنگل ہے

اس کو بنانے کے لیے بڑی اینٹیں استعمال کی گئی تھیں، جو کئی صدیاں گزرنے کے بعد بھی مضبوط ہیں

اس مقبرے سے چند قدم کے فاصلے پر ایک اور مقبرہ بھی تعمیر کیا گیا تھا، جو موسمی حالات کا مقابلہ نہ کرسکا اور اس کے آثار مٹ چکے ہیں۔ صرف ایک دیوار باقی رہ گئی ہے

موسمی حالات کے علاوہ تاریخی مقامات کو غیر قانونی طور پر نوادرات تلاش کرنے والے افراد بھی نقصان پہنچاتے ہیں، جو تاریک راتوں میں آکر کھدائی کرکے نوادرات تلاش کرتے ہیں

کہا جاتا ہے کہ ضلع کچھی کا صدر ڈھاڈر، جہاں خان آف قلات سردیوں کے موسم میں آکر رہائش اختیار کرتے تھے، اس کے آس پاس بھی بہت سے تاریخی آثار موجود ہیں جو کام نہ ہونے کے باعث مٹتے جارہے ہیں

ماہر آثار قدیمہ شاکر نصیر کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں کام نہیں ہوا۔ جو محفوظ مقامات ہیں، ان پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ضلع کچھی اپنے وسیع میدانی علاقے اور تاریخی مقامات کے حوالے سے ایک اہم خطہ ہے۔ جن میں مہرگڑھ بھی شامل ہے

مہرگڑھ کو موہن جودڑو سے بھی قدیم تہذیب کہا جاتا ہے۔ یہ مقبرہ اور اس کے اندر موجود قبریں اس بات کا پتہ دیتی ہیں کہ یہ کسی زمانے میں شاہی خاندان کے افراد کی رہائش گاہ رہی ہے، جن کے لیے اتنے اہتمام سے یہ خوبصورت عمارت بنائی گئی تھی.

Tags:

Archaeological SitesArchaeologyArchaeology BalochistanBalochistanHistory of BalochistanMeher GarhMehr Garh
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

وہ پانچ شہر جو کبھی آباد تھے مگر اب انہیں دیکھنے کے لیے زیر آب جانا پڑتا ہے..

Next

جھٹکا

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme